مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 385 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 385

۳۸۵ مضامین بشیر عزیزہ امتہ الودود بیگم کی وفات میں ہمارے لئے ایک سبق عزیزہ امتہ الودود بیگم کی وفات پر اولاً محترمی حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور بعدۂ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے لطیف مضامین شائع ہو چکے ہیں جو صدمہ رسیدہ اور زخم خوردہ دلوں کے اندرونی جذبات کے اظہار کے علاوہ جماعت کے لئے ایک اعلیٰ دینی اور روجانی سبق کا رنگ رکھتے تھے اور خصوصاً حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا مضمون حدیث نبوی اذكروا امواتاكم بالخَیرِ کی ایک بہترین تفسیر تھا۔اس لئے مجھے اس بارے میں کچھ مزید لکھنے اور تازہ زخموں کو لمبا کرنے کی ضرورت نہیں البتہ ایک اور جہت سے بعض باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ عزیزہ مرحومہ اپنے اخلاق اور دینداری کی وجہ سے اپنے ہر عزیز کے دل میں ایک خاص مقام رکھتی تھی اور اس کی بظاہر بے وقت وفات نے ہمارے خاندان کے ہر خور دو کلاں کو بہت سی دردانگیز یا دوں اور حسرتوں کے ساتھ مجروح کیا ہے اور خصوصاً سب سے زیادہ صدمہ مرحومہ کے والدین اور بھائیوں کے لئے ہے جنہیں وہ از حد عزیز بھی۔عزیزہ امتہ الودود یقیناً شجرہ خاندان مسیح کی ایک پاکیزہ کلی تھی جس کی لپٹی ہوئی نازک پنکھڑیاں آنے والے پھول کے تصور سے دل میں خوشی پیدا کرتی تھیں مگر جس باغ کی وہ کلی تھی وہ ہمارا لگایا ہوا باغ نہیں بلکہ ہمارے آسمانی باپ کا لگایا ہوا باغ ہے اور اگر ہمارا یہ ازلی ابدی باغبان کسی وقت کسی مصلحت سے اپنے لگائے ہوئے باغ میں سے پھول کی بجائے کلی کو توڑنا پسند کرتا ہے تو اس پر کسی دوسرے کو اعتراض کا حق نہیں۔بیج بھی اس کا ہے پودا بھی اس کا ہے۔کلی بھی اس کی ہے اور پھول بھی اسی کا ہے اور باغ کی زمین اور باغ کا پانی اور باغ کی ہوا اور باغ کا ہر ذرہ اسی کی ملکیت ہے۔پس اس کا حق ہے کہ جس طرح چاہے اپنے باغ میں تصرف کرے جس پودے کو چاہے رکھے اور جسے چاہے کاٹ دے۔جس کلی کو چاہے پھول بننے دے اور جسے چاہے کلی کی صورت میں ہی تو ڑلے لَا يُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمُ يُسْتَلُونَ ا۔مگر ہمارے خدا کا کوئی فعل حکمت و دانائی سے خالی نہیں ہوتا اور اس عالم کا مقدس باغبان اپنے باغ کے متعلق جو قدم بھی اٹھاتا ہے اس میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ظاہر آیا باطناً فرد یا اجتماعا باغ ہی کی بہتری اور بہبودی مقصود ہوتی ہے اور گو ہمارے ناقص علم میں بعض باتیں بظاہر بے وقت یا بے سود