مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 383 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 383

۳۸۳ مضامین بشیر اگر اس جگہ یہ سوال پیدا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب تریاق القلوب میں لکھا ہے کہ اپنے منکروں کو کا فرقرار دینا صرف ان نبیوں کا حق ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے نئی شریعت لاتے ہیں اور غیر تشریعی نبیوں کا انکار کفر نہیں ہوتا کہ اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسلمہ طور پر غیر تشریعی نبی تھے اس لئے آپ کا منکر کا فرنہیں ہو سکتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسا لکھا ہے اور ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہر ارشاد اور ہر فیصلہ ہر حال میں واجب القبول ہے مگر ہمارا فرض ہے کہ ہم آپ کی تحریرات کے ایسے معنی نہ کریں جو دوسری نصوص اور محکم تحریرات کے خلاف ہوں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جملہ تحریرات پر یکجائی نظر ڈالنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تریاق القلوب والے حوالہ کا یہ منشا نہیں کہ غیر تشریعی نبی کا انکار کسی صورت میں بھی موجب کفر نہیں ہوتا بلکہ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ جہاں ایک تشریعی نبی کا انکار براہ راست کفر ہوتا ہے۔وہاں ایک غیر تشریعی نبی کا انکار براہ راست کفر نہیں ہوتا بلکہ اس کے نبی متبوع کے واسطے سے کفر قرار پاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے منکروں کو کا فر قرار دیتے ہوئے یہی دلیل دی ہے کہ چونکہ میرے انکار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار لازم آتا ہے اس لیئے میرا منکر خدا کی نظر میں مسلمان نہیں۔گویا صرف واسطہ کا فرق ہے ورنہ نتیجہ دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔علاوہ ازیں اگر یہ قرار دیا جائے کہ ایک غیر تشریعی نبی کا انکار کسی صورت میں بھی کفر نہیں ہوتا تو پھر نعوذ باللہ قرآن کریم کی وہ محکم آیتیں باطل چلی جاتی ہیں جن میں ہر رسول اور ہر نبی کے انکار کو کفر قرار دیا گیا ہے اور اس جہت سے تشریعی اور غیر تشریعی نبیوں میں کوئی تمیز ملحوظ نہیں رکھی گئی۔خلاصہ یہ کہ ہم تریاق القلوب والے حوالے کو مانتے ہیں مگر ہمارے نزدیک اس کے یہ معنی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار براہ راست کفر نہیں بلکہ اس وجہ سے کفر ہے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز اور تابع نبی ہیں اور آپ کے انکار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار لازم آتا ہے، جن کے دین کی تجدید اور جن کے مشن کی تکمیل کے لئے آپ مبعوث کئے گئے۔اس مضمون کو ختم کرنے سے قبل یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مسئلہ کفر واسلام ان مسائل میں سے نہیں ہے جن کے متعلق عام حالات میں بحث کی کوئی حقیقی ضرورت پیش آتی ہو۔ہمارے سامنے اصل بحث یہ نہیں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منکر کا فر ہیں یا مسلمان بلکہ اصل بحث یہ ہے اور اسی پر ہمیں اپنے سب مخالفوں کو مجبور کر کے لانا چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی برحق ہیں اور آپ پر ایمان لانا ضروری ہے۔جس کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔اگر ہم اس صداقت کو لوگوں کے