مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 374 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 374

مضامین بشیر ۳۷۴ حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب مرحوم حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب مرحوم کی وفات پر سلسلہ کے متعدد بزرگوں کی طرف سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔جس میں مرحوم کے اعلیٰ اوصاف بیان کر کے دُعا کی تحریک کی گئی ہے۔ان مضامین کے بعد اس بات کی ضرورت نہیں رہتی کہ میں بھی کچھ لکھوں مگر چونکہ مرحوم میرے اُستاد تھے اور میرے ساتھ ان کا نہایت دیرینہ اور گہرا اور مخلصانہ تعلق تھا اس لئے میں بھی چند مختصر الفاظ میں اپنے جذبات کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت مولوی صاحب مرحوم میرے اُستاد تھے۔میں نے ابتداء سکول کے زمانہ میں ان سے عربی کی تعلیم حاصل کی اور پھر ایف۔اے، بی۔اے اور ایم۔اے میں ان سے مسلسل استفادہ کیا اور مرحوم نے جس محبت ، اخلاص، ہمدردی اور جانفشانی کے ساتھ مجھے پڑھا یا وہ انہی کا حصہ تھا۔یہ الفاظ میں نے رسماً یا تکلف کے انداز میں نہیں لکھے بلکہ ایک حقیقت کا جس کا میرے قلب پر نہایت گہرا اثر ہے اظہار کیا ہے۔میں نے بہت سے اُستادوں سے پڑھا ہے اور بہت سے اُستادوں کو دیکھا ہے۔اور ان میں سے اچھے اچھے محبت اور شوق اور محنت کے ساتھ پڑھانے والے اصحاب شامل ہیں مگر مولوی صاحب مرحوم کا انداز یقیناً سب سے نرالا تھا کیونکہ جو محبت اور جو شوق اور جو ہمدردی اور جو قربانی مولوی صاحب موصوف میں تھی وہ مجھے کسی دوسرے میں نظر نہیں آئی۔اس ریمارک سے مجھے اپنے کسی بزرگ کے مرتبہ کو گھٹانا مقصود نہیں بلکہ مولوی صاحب کے امتیاز کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔مولوی صاحب اپنے اخلاص اور محبت میں اپنے آرام اور اپنی جسمانی طاقتوں کو یوں نظرانداز کر دیتے تھے کہ گویا انہیں اپنے نفس کا خیال تک نہیں اور کم و بیش یہی حال ان کا اپنے دوسرے شاگردوں کے متعلق تھا کہ پڑھنے والا تھک جاتا تھا مگر وہ نہ تھکتے تھے۔بعض اوقات اس قسم کا لطیفہ بھی ہو جاتا تھا کہ کسی نے مولوی صاحب مرحوم سے استدعا کی کہ مجھے فلاں کتاب پڑھا دیں۔مولوی صاحب نے بغیر اس بات پر غور کرنے کے کہ میرے پاس وقت بھی ہے یا نہیں فور اوعدہ کر لیا کہ ہاں میں ضرور پڑھاؤں گا مگر جب اپنے وقت کا محاسبہ لیا تو معلوم ہوا کہ سارا وقت اس طرح بٹا ہوا ہے کہ رکسی مزید تقسیم کی گنجائش ہی نہیں لیکن ایسے موقع پر بھی بسا اوقات پرانے شاگردوں سے کہ کہا کران کے وقت میں سے کچھ وقت نکالنے کی کوشش کرتے تھے اور درخواست کرنے والوں کو حتی الوسع مایوس