مضامین بشیر (جلد 1) — Page 307
۳۰۷ مضامین بشیر یہ قانون پاس کر کے پھر اس کی تختی کے ساتھ نگرانی نہیں کی۔چنانچہ ابھی تک بعض مثالیں اس کے خلاف پائی جاتی ہیں مگر اس جگہ میری غرض لجنہ کی کسی غلطی کی طرف اشارہ کرنا نہیں ہے بلکہ غرض یہ ہے کہ ہماری جماعت میں بلا استثنالجنہ ہو یا غیر لجنہ قادیان ہو یا غیر قادیان ، یہ طریق مد نظر رہنا چاہیئے کہ کسی احمدی عورت کا برقعہ ایسا نہ ہو جو کسی جہت سے بھی زینت کو چھپانے کی بجائے خود زینت کا موجب سمجھا جائے۔بے شک اگر ایک عورت میل خورہ ہونے کی وجہ سے سیاہ رنگ کو زیادہ پسند کرتی ہے تو وہ سیاہ رنگ کا برقعہ استعمال کرے لیکن برقعہ خواہ سفید ہو یا سیاہ کسی صورت میں اس کی ساخت اور کپڑا اور رنگ باعث زینت نہیں ہونے چاہیں۔مثلاً ہو سکتا ہے کہ ایک برقعہ ہے تو سفید یا سیاہ رنگ کا مگر اس کے کپڑے میں بیل بوٹوں اور پھولوں وغیرہ سے سجاوٹ کی گئی ہے یا کوئی سجاوٹ نہیں ہے مگر و یسے اس کا رنگ ہی ایسا شوخ اور چمکدار ہے کہ وہ زینت کا باعث سمجھا جا سکتا ہے اور لوگوں کی نظروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے تو وہ با وجود محض سفید یا سیاہ ہونے کے قابل اعتراض ہوگا کیونکہ وہ بجائے زینت کو چھپانے کےخود زینت کا باعث ہے اور اس کا استعمال اس غرض کو پورا نہیں کرتا جو چادر یا برقعہ کے استعمال میں اسلام نے مقرر کی ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اسلام نے چادر اور برقعہ کی بناوٹ یا تفاصیل میں تو بے شک دخل نہیں دیا مگر بہر حال اسلامی تعلیم کے ماتحت وہ ایسے ہونے چاہئیں جو پردہ کی شرائط کو پورا کرنے والے ہوں۔پردہ کی اسلامی شرائط کی روشنی میں میں سمجھتا ہوں کہ ایک برقعہ میں مندرجہ ذیل باتوں کا پایا جانا ضروری ہے۔برقعہ کیسا ہونا چاہیئے (۱) برقعہ کی ساخت خواہ ویسے کسی قسم کی ہو مگر بہر حال وہ ایسی ہونی چاہیئے کہ برقعہ اسلامی پردہ کی غرض وغایت کے ماتحت عورت کے بدن اور لباس کی زینت کو چھپانے والا ہو اور بدن یا لباس کا کوئی حصہ جو چھپانے کے قابل ہے وہ ننگا نہ رہے۔نیز برقعہ ایسا تنگ بھی نہ ہو کہ اس کی تنگی کے باعث عورت کے بدن کی ساخت ظاہر ہونے لگے۔(۲) برقعہ کا کپڑا ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ جو خود زینت کا موجب ہو۔مثلاً پھول دار کپڑا یا شوخ چمکدار رنگ کا کپڑا نا جائز سمجھے جائیں گے۔(۳) برقعہ کسی رنگ کا ہو سکتا ہے لیکن چونکہ سیاہ اور سفید کے سوا باقی رنگوں میں بالعموم کسی نہ کسی جہت سے زینت کا دخل آجاتا ہے۔اس لئے حتی الوسع صرف انہی دورنگوں پر اکتفا