مضامین بشیر (جلد 1) — Page 303
٣٠٣ مضامین بشیر افراط و تفریط موجودہ برقعہ اور اسلامی پرده اسلام نے جو تعلیم پردہ کے متعلق دی ہے۔اس کی تشریح اور تفصیل بڑی صراحت کے ساتھ ہمارے لڑ پچر میں آچکی ہے جس کے اعادہ کی اس جگہ ضرورت نہیں۔صرف خلاصۂ اس قدرا شارہ کافی ہے کہ جیسا کہ دوسرے امور میں اسلام کا قاعدہ ہے اس نے پردہ کے معاملہ میں بھی ایک نہائت اعلیٰ وسطی تعلیم دی ہے جس میں ایک طرف تو عورت کی جائز آزادی اور اس کی صحت وغیرہ کے طبعی تقاضے کو پورا کیا گیا ہے اور دوسری طرف نا واجب آزادی اور زینت کے برملا اظہار اور مردوعورت کے آزاد نہ خلا ملا کے نتیجہ میں جو خطرات پیدا ہو سکتے ہیں ان کے انسداد کے لئے بھی مناسب تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔اس اسلامی تعلیم کے پیش نظر جس طرح آج سے کچھ عرصہ قبل کا پردہ جو ہندوستان کے اکثر مسلمان خاندانوں میں رائج تھا۔وہ بوجہ زیادہ سخت ہونے کے افراط کی طرف مائل تھا۔اسی طرح نئی روشنی کی بے پردگی جس میں اسلامی پردہ کی قیود کو بالکل ہی تو ڑ دیا گیا ہے،سراسر تفریط کی طرف مائل ہے بلکہ اس کے لئے تو تفریط کا لفظ استعمال کرنا بھی درست نہیں ہے کیونکہ اس میں اسلامی تعلیم کو بالکل ہی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔اصلاحی تغیر میں ایک خطرہ احمدیت کی غرض و غائت چونکہ دنیا کو صحیح اسلامی تعلیم پر قائم کرنا ہے۔اس لئے دوسری بے شمار اصلاحوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رائج الوقت پردہ کے متعلق بھی اصلاح فرمائی اور افراط و تفریط کی راہوں سے بچا کر احمدی مستورات کو صحیح اسلامی پر دہ پر قائم کرنے کی کوشش کی۔اس کوشش کا نتیجہ یہ بھی ہوا کہ بہت سے نادان لوگ جو رائج الوقت طریق کو ہی صحیح اسلامی طریق سمجھنے لگ جاتے ہیں اور گہرے مطالعہ کے عادی نہیں ہوتے ، وہ پردہ کے معاملہ میں احمدی مستورات کی نسبتی آزادی کو خلاف اسلام قرار دے کر اعتراض کرنے لگے اور یہ اعتراضات اپنوں اور بیگانوں دونوں کی طرف سے ہوئے۔ان اعتراضوں کی تو ہمیں پروانہیں ہے کیونکہ جو قوم دنیا میں