مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 294 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 294

مضامین بشیر ۲۹۴ ہر حال میں کچی شہادت دو قریباً ہر زمانہ اور ہر قوم میں شہادت کا معاملہ نہایت اہم اور نہایت نازک چلا آیا ہے۔ایک طرف تو اس کو یہ اہمیت حاصل ہے کہ افراد اور حکومتوں کے حقوق بیشتر طور پر شہادت کی بناء پر تصفیہ پاتے ہیں اور دوسری طرف اس مسئلہ کو یہ نزاکت حاصل ہے کہ اکثر لوگ کسی نہ کسی غرض یا کسی نہ کسی وجہ سے متاثر ہو کر شہادت کے معاملہ میں کمزوری دکھاتے ہیں اور سچی شہادت کو چھپا کر یا بدل کر معاملہ کو کچھ کی کچھ صورت دے دیتے ہیں۔شہادت کے متعلق تفصیلی ہدایات اسی لئے اسلام نے جو دنیا میں صداقت کا سب سے بڑا حامی ہے۔شہادت کے متعلق تفصیلی ہدایات دی ہیں۔یعنی ایک طرف تو اس نے حکومت کو یہ متنبہ کیا ہے کہ صرف ثقہ اور صادق اور عادل گواہوں کی شہادت قبول کی جائے اور دوسری طرف شہادت دینے والوں کو اس نے یہ تاکیدی ہدایت دی ہے کہ وہ کسی صورت میں بھی سچی شہادت پر پردہ نہ ڈالیں بلکہ خواہ ان کی شہادت کا اثر ان کے کسی قریب ترین عزیز پر پڑتا ہو یا کسی دوست پر پڑتا ہو یا خودان کی ذات پر پڑتا ہو وہ بہر حال سچی کچی شہادت دیں اور کسی دشمن کی دشمنی کی وجہ سے بھی اپنی شہادت کو حق وصداقت سے منحرف نہ ہونے دیں۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: ا - وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوات ترجمہ : یعنی جن گواہوں کو شہادت کے لئے بلایا جائے انہیں انکار کا حق نہیں ہے بلکہ بلانے پر بلا تامل حاضر ہونا چاہیئے۔۲ - وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمُهَا فَإِنَّهُ اثِمٌ قَلْبُهُ - ال ترجمہ: یعنی اے مسلما نو ! تم رکسی صورت میں بھی گواہی کو چھپایا نہ کرو اور جو شخص سچی گواہی کو چھپائے گا اس کا دل گناہگار ہو جائے گا۔جس سے سارے جسم میں گناہ کا زہر پھیل جائے گا کیونکہ دل سے ہی سارے جسم میں خون پہو نچتا ہے۔- يا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى