مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 251 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 251

۲۵۱ مضامین بشیر یہ کہ اس مہینے میں خاص طور پر صدقہ و خیرات پر زور دینا چاہیئے کیونکہ صدقہ وخیرات کورڈ بلا اور حصول ترقیات میں بہت بڑا دخل حاصل ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر ہمارے دوست رمضان کے مبارک مہینے میں مندرجہ بالا پانچ باتوں کا خیال رکھیں اور رسم کے طور پر نہیں بلکہ دل کے اخلاص اور خشوع کے ساتھ ان باتوں کو اختیار کریں تو وہ انشاء اللہ تعالیٰ عظیم الشان روحانی فوائد سے متمتع ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ میں اس سال پھر وہ تحریک کرنا چاہتا ہوں جو میں بعض گزشتہ سالوں میں کرتا رہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے دوست اس رمضان کے مہینے میں اپنی کسی ایک کمزوری کو مدنظر رکھ کر اسے دور کرنے کی اور اس سے مجتنب رہنے کا خدا کے ساتھ پختہ عہد باندھیں تا کہ جب رمضان ختم ہو تو وہ کم از کم اپنے ایک نقص سے کلی طور پر پاک ہو چکے ہوں۔یہ تحریک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی تھی اور خدا کے فضل سے تطہیر نفس کے لئے بہت مفید اور بابرکت ہے۔چونکہ بعض دوست اپنے نفس کے محاسبہ کی عادت نہیں رکھتے اور اپنے اندر کمزوریاں رکھتے ہوئے بھی ان کی توجہ اس بات کی طرف مبذول نہیں ہوتی کہ ہمارے اندر کیا کیا کمزوریاں ہیں جنہیں ہمیں دور کرنا چاہیئے اس لئے ایسے دوستوں کی رہنمائی کے لئے ایک مختصر فہرست ذیل میں ان کمزوریوں کی درج کی جاتی ہے جو آج کل عام طور پر لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔ہمارے دوستوں کو چاہیئے کہ اپنے نفسوں کا محاسبہ کر کے ان کمزوریوں میں سے جو کمزوریاں ان میں پائی جاتی ہوں ان میں سے کسی ایک کو چن کر اس کے متعلق اپنے دل میں خدا تعالیٰ کے ساتھ پختہ عہد باندھیں کہ وہ اس کے فضل اور توفیق کے ساتھ آئندہ اس کمزوری سے کلی طور پر مجتنب رہیں گے۔کمزوریوں کی فہرست درج ذیل ہے : (۱) فرض نماز میں سستی۔(۲) نماز با جماعت میں سستی۔(۳) امام الصلوۃ سے کسی بات پر لڑ کر اس کے پیچھے نماز ترک کر دینا۔(۴) نماز کے لئے طہارت وغیرہ کے معاملہ میں بے احتیاطی کرنا۔( ۵ ) سنت نماز کی ادائیگی میں سنتی۔(۶) تہجد کی نماز میں سستی۔(۷) روزہ رکھنے میں سنتی یعنی بغیر واجبی عذر کے یونہی کسی بہانے پر روزہ ترک کر دینا۔