مضامین بشیر (جلد 1) — Page 250
مضامین بشیر ۲۵۰ رمضان کا مہینہ نفس کو پاک کرنے کیلئے خاص اثر رکھتا ہے جماعت کے احباب اس سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں رمضان کا مبارک مہینہ قریب آرہا ہے بلکہ شاید اس مضمون کے شائع ہونے تک وہ شروع ہو چکا ہو۔یہ مہینہ جیسا کہ احباب کو معلوم ہے ایک خاص مبارک مہینہ ہے۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اس مہینہ میں اپنے بندوں کے بہت زیادہ قریب ہو جاتا ہوں۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس مہینے میں خصوصیت سے عبادت اور ذکر الہی پر زور دیا جاتا ہے کیونکہ علاوہ روزوں کے جو خود اپنے اندر ایک نہایت درجہ مبارک عبادت کا رنگ رکھتے ہیں۔رمضان کے مہینہ میں نوافل اور قرآن خوانی اور دعاؤں اور دیگر رنگ میں ذکر الہی پر خاص زور دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس مہینے کو اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہت بڑی برکت اور فضیلت حاصل ہے۔پس سب سے پہلے تو میں احباب سے یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس مہینے کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس حقیقت کو سمجھ کر ان مبارک ایام کو اس رنگ میں گزاریں جس رنگ میں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا منشاء ہے کہ انہیں گزارا جائے یعنی اول سوائے اس کے کہ کسی شخص کو کوئی شرعی عذر ہو سارے مہینے کے روزے پورے کئے جائیں اور روزہ رکھنے میں روزے کی اس مبارک حقیقت کو مدنظر رکھا جائے جو اسلام نے بیان کی ہے تا کہ روزہ صرف بھو کے اور پیاسے رہنے تک محدود نہ ہو بلکہ ایک زندہ روحانی حقیقت اختیار کرلے۔دوسرے یہ کہ رمضان کے مہینے میں تراویح کی نماز کو بالالتزام ادا کیا جائے۔جس کے لئے بہتر وقت تو سحری کا ہے مگر بطریق تنزل نماز عشاء کے بعد بھی وہ ادا کی جاسکتی ہے۔تیسرے یہ کہ اس مہینے میں تلاوت قرآن مجید پر خاص زور دیا جائے اور اس بات کی خاص کوشش کی جائے کہ کم از کم ایک دور گھر پر مکمل ہو جائے۔چوتھے یہ کہ رمضان کے مہینے میں دُعاؤں پر خاص طور پر زور دیا جائے۔دعا علا وہ ایک اعلیٰ درجہ کی عبادت ہونے کے حصول مطالب کے لئے بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔دُعاؤں میں سب سے مقدم اسلام اور احمدیت کی ترقی کے سوال کو رکھنا چاہیئے۔اس کے بعد ذاتی دعائیں بھی کی جائیں۔