مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 247 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 247

۲۴۷ مضامین بشیر گئے ہیں۔یا ممکن ہے کہ اپنی مظلومیت کا مظاہرہ بھی مدنظر ہو۔واللہ اعلم بالصواب دوسری بات جو میں اس تعلق میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جو چٹھی مولوی محمد علی صاحب کو پہونچی ہے۔امکانی طور پر اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں : اول: یہ کہ جیسا کہ میرے پاس بعض لوگوں نے بدظنی کا اظہار کیا ہے ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ چٹھی اپنی مظلومیت کے مظاہرہ کے لئے خود وضع کر لی گئی ہو۔دوسرے یہ کہ یہ چٹھی غیر مبایعین کے کسی فرد نے اپنے لیڈروں کے علم کے بغیر اپنی پارٹی کے ہاتھ میں پراپیگنڈا کا ایک آلہ دینے کے لئے گمنام صورت میں لکھ دی ہو۔تیسرے یہ کہ واقعی غیر مبایعین کے کسی مخالف نو جوان نے دھمکی کے طور پر یہ چٹھی لکھی ہو۔یہ تین امکانی صورتیں ہیں جو اس چٹھی کے متعلق ہو سکتی ہیں۔مجھے اس بات کے اظہار میں قطعاً کوئی تامل نہیں کہ ذاتی طور پر میں صورت اول کو غلط اور نا قابل قبول خیال کرتا ہوں کیونکہ با وجودان کی شدید مخالفت کے میں مولوی محمد علی صاحب پر اس قدر گری ہوئی بدظنی نہیں کر سکتا کہ انہوں نے از خود یہ بات وضع کر لی ہو۔ہاں باقی دونوں صورتیں میرے نزدیک قرین قیاس اور قابل قبول ہیں۔یعنی ہوسکتا ہے کہ غیر مبایعین کے کسی فرد نے یہ چٹھی اس غرض سے لکھ دی ہو کہ اس طرح پراپیگنڈا کا ایک بہت عمدہ آلہ ہماری پارٹی کے ہاتھ آجائے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی دوسرے شخص نے اپنی مجنونانہ ذہنیت یا شرارت پسند میلان طبع کی وجہ سے تخویف وغیرہ کے خیال سے یہ چٹھی لکھی ہو۔ان دو صورتوں میں سے صورتِ اول کے متعلق تو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے اور اسے ہدایت دے جو اپنی پارٹی کے حق میں اس قد ر گرے ہوئے اور کمینہ طریق عمل کو اختیار کرتا ہے کہ اپنے ہی لیڈر کو خود ایک دھمکی کی چٹھی لکھ کر اپنی پارٹی کا نام پیدا کرنا چاہتا ہے۔تیسری اور آخری صورت البتہ ضرور اس قابل ہے کہ اس کے متعلق ہماری طرف سے کچھ اظہار خیال کیا جائے۔سواس امکانی صورت کے پیش نظر کہ اس چٹھی کا لکھنے والا کوئی مبائع نوجوان ہے۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر بالفرض یہ چٹھی کسی مبائع کی لکھی ہوئی ہے تو یقیناً وہ سخت غلطی خوردہ اور گمراہی کے راستہ پر چلنے والا ہے اور اسے چاہیئے کہ بہت جلد خدا کے حضور تو بہ کر کے اپنی اصلاح کی فکر کرے۔خدائی سلسلے اپنی ترقی کے لئے اس قسم کے غلط اور مفسدانہ طریقوں کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ حق یہ ہے کہ یہ طریق ان کی ترقی میں خطرناک روک بن جاتے ہیں اور ایسے کام ثواب کا موجب نہیں ہوتے بلکہ خدا کی ناراضگی اور عذاب کا باعث بن جاتے ہیں۔کعب بن اشرف کی مثال بالکل جدا گانہ