مضامین بشیر (جلد 1) — Page 243
ٹھکرا دیا کہ ۲۴۳ مضامین بشیر الا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَّا يَشْعُرُونَ ٣ 66 یعنی خبر دار یہی لوگ مفسد اور فتنہ پرداز ہیں مگر وہ سمجھتے نہیں۔“ پس محض اصلاح اور نیک نیتی کا دعوی کوئی چیز نہیں ہے جب تک اس دعوی میں خدا کی ازلی شریعت کے ماتحت اصلاح اور نیک نیتی کی حقیقت مضمر نہ ہو اور اس کی علامات نہ پائی جائیں۔تعجب ہے کہ الزامات تو اس رنگ میں لگائے جا رہے ہیں جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ : أُولئِكَ عِنْدَ اللَّهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ " یعنی اس رنگ میں الزام لگانے والے خدا کے نزدیک جھوٹے اور مفتری ہیں مگر دعوی اصلاح اور نیک نیتی کا کیا جاتا ہے۔پھر رستہ تو وہ اختیار کیا جا رہا ہے جس سے جماعت کا شیرازہ منتشر ہوتا ہے اور اس کی بندھی ہوئی ہوا بکھرتی ہے اور جماعت بدنام ہوتی اور اس کا رعب ٹتا اور اس کی طاقت میں کمی آتی ہے مگر دعوی جماعت کو ترقی دینے کا کیا جا رہا ہے۔پھر جماعت میں بدی اور بے حیائی کی باتوں کا چرچا کر کے مخش کی اشاعت کی جاتی ہے اور گندی باتیں کر کر کے کمزور طبیعت لوگوں میں گندے جذبات کو ابھارا جا رہا ہے مگر دعوی یہ کہ ہم جماعت کو پاک وصاف کرنا چاہتے ہیں !!! افسوس ہے کہ ان لوگوں کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑ گیا ہے کہ اب وہ ان بدیہی حقائق کو بھی نہیں دیکھ سکتے۔جو ایک راستہ چلتے ہوئے شخص کو بھی نظر آنے چاہئیں اور وہ قرآن وحدیث کی صریح تعلیم کے خلاف قدم زن ہو کر جماعت کو ہلاکت اور تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔مجھے تو ان کا انجام اچھا نظر نہیں آتا کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ وہ جس راستہ پر چل رہے ہیں اس کی آخری منزل سوائے بے دینی اور بے حیائی کے اور کچھ نہیں اور ثبوت پوچھو تو سوائے اس کے کچھ پیش نہیں کر سکتے کہ فلاں مرد یہ کہتا ہے اور فلاں عورت یہ سناتی ہے۔اور فلاں لڑکا یہ گواہی دیتا ہے۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ کیا معصوم لوگوں کے چال چلن کی اتنی ہی قیمت رہ گئی ہے کہ زید وبکر کی بے ہودہ بکو اس سے انہیں داغ دار کرنے کی کوش کی جائے ؟ کیا اس شخص کا کیرکٹر جس کے ہاتھ میں آپ نے چہارم صدی تک اپنا بیعت کا ہاتھ دیئے رکھا۔اسی معیار پر تو لے جانے کے قابل ہے کہ آوارہ مزاج اور آزاد منش نو جوان اس کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ افسوس صد افسوس کہ اتنا بھی نہیں سوچا گیا کہ شہادت دینے والے کس قماش کے لوگ ہیں۔اور جس کے متعلق شہادت دی جارہی ہے وہ کس پوزیشن کا انسان ہے۔اور اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کیا بشارات ہیں۔اور پھر یہ بھی نہیں دیکھا گیا کہ اس قسم کے الزامات نئے نہیں ہیں بلکہ حضرت یوسف علیہ السلام سے