مضامین بشیر (جلد 1) — Page 240
مضامین بشیر ۲۴۰ (۳) انہوں نے خلیفہ وقت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان پر وہ گندے الزامات لگائے جن کے متعلق قرآن شریف کا یہ صریح حکم ہے کہ اگر ایسے الزامات لگانے والا ایک ہی واقعہ کے متعلق چار چشم دید گواہ نہیں لاتا تو وہ خدا کے نزدیک جھوٹا اور کذاب ہے۔(۴) انہوں نے الزامات کے لگانے میں وہ طریق اختیار کیا جس سے بدچلنی اور فحش کی اشاعت ہوتی ہے اور گندے جذبات اور گندے خیالات کا چرچا ہوتا ہے اور قوم کے اخلاق بگڑتے ہیں۔یقیناً بسا اوقات خود بدی کا وجود خصوصاً جبکہ وہ مخفی ہوا خلاق کو اس قدر خراب نہیں کرتا جتنا کہ ایک بدی کا آزادانہ چرچا خراب کرتا ہے کیونکہ اس سے بدی کا رُعب مٹتا ہے اور لوگوں میں اس کے ارتکاب کی جرات پیدا ہوتی ہے۔اسی واسطے حضرت عائشہ پر الزام لگانے والوں کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے کہ یہ لوگ دو وجہ سے مجرم ہیں : اول : - اس لئے کہ انہوں نے ثبوت کے بغیر الزام لگایا۔دوسرے:۔اس لئے کہ انہوں نے قوم میں بدی کا چرچا کر کے کمزور مزاج لوگوں کے اخلاق پر گندا اثر پیدا کیا اور منش اور گندے جذبات کی اشاعت میں حصہ لیا۔(۵) پانچویں میاں فخر الدین نے یہ غلطی کی کہ خدا کی قائم کردہ جماعت سے الگ ہو کر جماعت کو نقصان پہنچانے اور جماعت کے بندھے ہوئے شیرازے کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور یہ وہ بات ہے جو خدا کے غضب کے بھڑکانے میں سب سے تیز تر ہے۔ایک عظیم الشان قرآنی اصل اس کے علاوہ میاں فخر الدین نے اس عظیم الشان قرآنی اصل کو بھی بھلا دیا کہ اللہ تعالیٰ جب چیز کو اختیار کرتا ہے تو اس لئے اختیار نہیں کرتا کہ اس چیز میں سب خوبی ہی خوبی ہوتی ہے اور کوئی بھی بُرائی نہیں ہوتی اور جب وہ کسی چیز کو رد کرتا ہے تو اس لئے رد نہیں کرتا کہ اس میں صرف خرابی ہی خرابی ہے اور کوئی بھی خوبی نہیں بلکہ وہ اپنے از لی قانون کے ماتحت ہر چیز کو تولتا ہے اور پھر تو لنے کے نتیجہ میں اگر کسی چیز میں خوبی کا پہلو نمایاں اور غالب ہو تو با وجود اس کے کہ اس میں کوئی ایک آدھ نقص ہو وہ اسے قبول کر لیتا ہے۔دوسری طرف اگر کسی چیز میں نقصان کا پہلو نمایاں اور غالب ہو تو باوجود اس کی بعض خوبیوں کے اللہ تعالیٰ اس کو رد کر دیتا ہے۔مثلاً شراب اور جوئے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے انہیں اس لئے حرام قرار دیا ہے کہ اِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا۔یعنی گوان میں بعض خوبیاں بھی ہیں مگر نقصان کا پہلو بہت غالب ہے۔پس