مضامین بشیر (جلد 1) — Page 224
مضامین بشیر ۲۲۴ ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اب جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش کی تاریخ معین طور پر معلوم ہوگئی ہے۔ہمارے احباب اپنی تحریر و تقریر میں ہمیشہ اس تاریخ کو بیان کیا کریں گے تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تاریخ پیدائش کے متعلق کوئی ابہام اور اشتباہ کی صورت نہ رہے اور ہم لوگ اس بارہ میں ایک معین بنیاد پر قائم ہو جائیں۔اس نوٹ کے ختم کرنے سے قبل یہ بھی ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک الہام الہی میں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کی عمر ۸ سال یا اس سے پانچ یا چار کم یا پانچ یا چار زیادہ ہوگی۔اگر اس الہام کے لفظی معنی لئے جائیں تو آپ کی عمر پچھتر ، چھیتر یا اسی یا چوراسی ، پچاسی سال کی ہونی چاہیئے بلکہ اگر اس الہام کے معنے کرنے میں زیادہ لفظی پابندی اختیار کی جائے تو آپ کی عمر پورے ساڑھے پچھتر سال یا اسی یا ساڑھے چوراسی سال کی ہونی چاہیئے۔اور یہ ایک عجیب قدرت نمائی ہے کہ مندرجہ بالا تحقیق کی رو سے آپ کی عمر پورے ساڑھے پچھتر سال کی بنتی ہے۔اسی ضمن میں یہ بات بھی قابل نوٹ ہے کہ ایک دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی پیدائش کے متعلق بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت آدم سے لے کر ہزار ششم میں سے ابھی گیارہ سال باقی رہتے تھے کہ میری ولادت ہوئی اور اسی جگہ یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ابجد کے حساب کے مطابق سورۃ والعصر کے اعداد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ نکلتا ہے۔جو شمار کے لحاظ سے ۴۷۳۹ سال بنتا ہے کہ یہ زمانہ اصولاً ہجرت تک شمار ہونا چاہیئے کیونکہ ہجرت سے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔اب اگر یہ حساب نکالا جائے تو اس کی رُو سے بھی آپ کی پیدائش کا سال ۱۲۵۰ھ بنتا ہے۔کیونکہ ۶۰۰۰ میں سے اا نکالنے سے ۵۹۸۹ رہتے ہیں۔اور ۵۹۸۹ میں سے ۳۹ ۴۷ منہا کرنے سے ۱۲۵۰ بنتے ہیں۔گویا اس جہت سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش کے متعلق مندرجہ بالا حساب صحیح قرار پاتا ہے۔فالحمد لله علی ذالک مطبوعه الفضل ۱۱ اگست ۱۹۳۶ء)