مضامین بشیر (جلد 1) — Page 13
۱۳ مضامین بشیر میں جھوٹے تھے۔پس یہود نے مسیح کے انکار سے اپنے اوپر دو کفر لئے۔ایک مسیح کا ظاہری کفر اور دسرے موسیٰ یا یوں کہیے کہ مسیح سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کا باطنی کفر۔یہی حال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پانے والے نصاریٰ کا ہے۔جنہوں نے آپ کا انکار کر کے اس بات پر بھی مہر لگا دی کہ وہ مسیح ناصری پر ایمان لانے کے دعوے میں جھوٹے تھے اور اس کی تعلیم کو دلوں سے بھلا چکے تھے۔پس انہوں نے بھی دو قسم کا کفر کیا۔ایک ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری کفر اور دوسرے مسیح ناصری اور اس سے پہلے کے تمام انبیاء کا باطنی کفر۔اب یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ ایک رسول کے انکار سے باقی تمام رسولوں کا انکار لازم آتا ہے۔ہاں ہم یہ نہیں کہتے کہ ایک رسول کا ظاہری کفر باقی رسولوں کا بھی ظاہری کفر ہے کیونکہ جیسا کہ میں بتا آیا ہوں ظاہری کفر زبانی انکار سے تعلق رکھتا ہے۔اس لئے بغیر کسی کی طرف سے زبانی انکار کے اس پر ظاہری کفر کا فتو ی عائد کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ایک شخص اگر کہتا ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رسالت پر ایمان لاتا ہوں اور وہ کلمہ گو ہے۔تو پھر ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم اس کو ظاہری کفر کے لحاظ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کا فر کہیں۔ہاں اگر وہ کسی اور مامور من اللہ کا ظاہری کفر اپنے اوپر لیتا ہے تو پھر بے شک جیسا کہ میں ابھی ثابت کر آیا ہوں اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی باطنی کفر کیا کیونکہ ایک رسول کے ظاہری کفر سے باقی رسولوں کا باطنی کفر لازم آتا ہے۔ہر ایک رسول کی بعثت بذات خود زبان حال سے پکار رہی ہوتی ہے کہ اس سے پہلے کے انبیاء بلکہ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ خود ذات باری تعالیٰ کا باطنی کفر دنیا میں شروع ہو چکا ہے۔مسیح ناصری کا دنیا میں آنا اس بات پر گواہ تھا کہ موسیٰ کی قوم نے موسیٰ کا باطنی کفر شروع کر رکھا تھا۔پھر آخر مسیح کی بعثت نے ثابت کر دیا کہ امت موسویہ میں واقعی اکثر دھا گے کچے تھے جو ذرا سے جھٹکے میں ٹوٹ گئے۔اسی طرح مسیح محمدی کی بعثت دلیل ہے اس بات پر کہ امت محمدیہ میں خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کفر شروع ہے مگر وہی باطنی کفر کیونکہ ظاہری کفران پر عائد نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اسلام سے ظاہر طور پر ارتداد کی راہ نہ اختیار کریں۔پس اب ہماری پوزیشن بالکل صاف ہے۔ہم غیر احمدیوں کو حضرت مسیح موعود کا کافر سمجھتے ہیں۔آپ کے سوا کسی اور رسول کے وہ ظاہری کا فرنہیں اور نہ ہم ان کو کہتے ہیں مگر ہاں مسیح موعود کا کفر ہم کو اتنا ضرور۔بتا رہا ہے کہ آپ کے منکرین میں محمد رسول اللہ صلی اللہ کا بھی باطنی کفر شروع ہے۔فریق مخالف نے مسئلہ کفر و اسلام بے ہودہ جھگڑوں سے پیچیدہ کر دیا ہے ورنہ بات بالکل صاف ہے۔کون کہتا ہے کہ غیر احمدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری کا فر ہیں۔ہمارا سر پھرا ہے کہ ہم کہیں غیر احمدی محمد رسول اللہ کے ظاہری طور پر کفر کرنے والے ہیں۔اس کے تو یہ معنی ہوں گے کہ