مضامین بشیر (جلد 1) — Page 12
مضامین بشیر ۱۲ براہین حصہ پنجم صفحہ ۱۳۸ پر لکھا ہے کہ نبی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ صاحب شریعت نبی کا متبع نہ ہو۔غرض اس بات کو خوب یا درکھنا چاہیئے کہ ہر ایک رسول کی اصل حیثیت ایک منجی کی ہوتی ہے اور وہ تمام ایک کشتی تیار کرتے ہیں جس کے اندر بیٹھنے والے تمام خطرات سے نجات پا جاتے ہیں۔وہ کشتی یہی ایمان کی کشتی ہوتی ہے مگر لبوں تک محدود رہنے والا ایمان نہیں بلکہ وہ ایمان جو مومن کے رگ وریشہ کے اندر سرایت کر جاتا اور اسے یقین کی مستحکم چٹان پر قائم کر دیتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔یہ حدیث نبوی کہ لوكَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّالَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسُ - اگر زبانی اقرار کا نام ایمان رکھا جاوے تو پھر اس حدیث کے کوئی معنی ہی نہیں بنتے کیونکہ زبانی اقرار والا ایمان تو تمام مسلمان کہلانے والے لوگوں میں ہمیشہ پایا جاتا رہا ہے۔سوماننا پڑتا ہے کہ اس جگہ وہ ایمان مراد ہے جو خدا کی ہستی کو محسوس و مشہود کر وا دیتا ہے اور گناہوں کو آگ کی طرح جلا کر خاک کر دیتا اور انسان کو ایک نئی زندگی بخشتا ہے۔سو اس لحاظ سے تو تمام مامورین کا انکار منکرین کے غیر مومن ہونے پر مہر لگانے والا ہوتا ہے مگر پھر بھی کفر کی اقسام ہیں جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔سو جاننا چاہیئے کہ گفر دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک ظاہری کفر اور ایک باطنی کفر۔ظاہری کفر سے یہ مُراد ہے کہ انسان کھلے طور پر کسی رسول کا انکار کر دے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور نہ مانے۔جس طرح یہود نے مسیح ناصری کا کفر کیا یا جس طرح نصاریٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی طرف سے رسول نہ مانا اور باطنی کفر یہ ہے کہ ظاہر طور پر تو انسان کسی نبی یا رسول کی نبوت ورسالت پر ایمان لانے کا اقرار کرے اور اس کی امت میں اپنے آپ کو شمار کرتا ہولیکن در حقیقت ( اللہ تعالیٰ کی نظر میں ) وہ اس نبی کی تعلیم سے بہت دور جا پڑا ہو اور اس کی پیشگوئیوں پر پورا پورا ایمان نہ لائے اور جس شخص پر ایمان لانے کا خدا نے حکم دیا ہو۔اس کی تکذیب کرے اور اس نبی کے احکام پر کار بند نہ ہو یا اگر ہو تو صرف قشر پر گرا رہے اور حقیقت سے دور ہو۔غرض صرف رسمی طور پر اس کی طرف منسوب کیا جائے۔جیسا کہ مسیح ناصری کا زمانہ پانے والے یہود کا حال تھا۔گو وہ ظاہر طور پر تورات کے حامل تھے اور موسیٰ کی اُمت میں اپنے آپ کو شمار کرتے تھے لیکن درحقیقت وہ موسیٰ کی طرف صرف رسمی طور پر منسوب تھے۔چنانچہ اس حقیقت کو مسیح ناصری کی بعثت نے بالکل مبرہن کر دیا اور یہ بات بالکل ظاہر ہوگئی کہ حقیقت میں یہود موسیٰ کی تعلیم سے بہت دور جا پڑے تھے اور انہوں نے تو رات کو پس پشت ڈال رکھا تھا اور ان کا موسیٰ کی امت میں ہونے کا دعویٰ صرف ایک زبانی دعوی تھا جو آزمانے پر غلط نکلا۔حضرت مسیح کی بعثت سے پہلے تمام بنی اسرائیل موسیٰ کی تعلیم پر کار بند ہونے کے مدعی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے مسیح کو نازل فرما کر بچوں اور جھوٹوں میں تمیز پیدا کر دی اور اس بات پر الہی مُہر لگ گئی کہ اکثر بنی اسرائیل اپنے دعوے