مضامین بشیر (جلد 1) — Page 189
۱۸۹ مضامین بشیر اخبار رحقیقت لکھنؤ لکھتا ہے کہ : - کھٹ منڈو میں ایسی قیامت آئی کہ جس کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔رام نگر سے کھٹمنڈو کو جو سلسلہ کو ہ جاتا ہے اس کی سب سے بڑی پہاڑی را مارا تھوئی میں عجیب طور پر شگاف ہو گیا ہے یعنے جس طرح کوئی دیوار بنیاد تک شق ہو جائے۔اس طرح پہاڑ کے دوٹکڑے ہو گئے اور شگاف کی تہہ میں ایک کھولتا ہوا چشمہ ابل پڑا ہے جس سے کچھ ایسے بخارات اٹھ رہے ہیں کہ کوئی اس کے قریب نہیں جا سکتا۔تین سرکاری عالی شان محل جن کی خوبصورتی اور صناعی پر یورپین انجینئر عش عش کرتے تھے مسمار ہو گئے ہیں۔اور سب سے زیادہ اندوہناک واقعہ یہ ہے کہ راستہ میں ایک ایسا گہرا شگاف پڑ گیا ہے کہ کئی دنوں تک آمد و رفت نہ ہو سکے گی۔اگر چہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ اس علاقہ میں ہزاروں جانیں ضائع ہو گئی ہیں لیکن اس سے عجیب واقعہ یہ ہے کہ کئی پہاڑی ندیاں جو ان دنوں بھی ابلتی رہتی ہیں وہ بھی غائب ہوگئی ہیں۔گوالا منڈی نیپال گنج اور بھکتہ تھوری میں بھی اس وقت حشر بپا ہے۔بازار تباہ ہو گئے ہیں۔شہر پر ویرانے کا دھوکہ ہوتا ہے خاص کر نیپال گنج میں جہاں بڑے بڑے گودام تھے۔ایسی تباہی آئی ہے جس کا انداز ہ لاکھوں روپیہ سے زیادہ ہے۔پہاڑی علاقہ میں ایسی تباہی آئی ہے جس کا اندازہ دشوار ہے۔انسان تو انسان حیوان اس قہر خدا سے حواس باختہ ہو گئے تھے اور درندے نہایت بدحواسی سے آدمیوں کے پاس بھاگتے ہوئے جار ہے تھے۔۴۶ اخبار ملاپ لا ہو رلکھتا ہے کہ : وادی نیپال میں قریباً قریباً تمام مکانات گر گئے ہیں۔کھٹمنڈو میں کئی میدانوں اور پہاڑیوں میں دراڑ پڑ گئے ہیں۔مہاراجہ کی دولڑکیاں ہلاک ہو گئیں۔مہاراجہ کی ایک پوتی اور چچازاد بھائی۔اس کی بیوی اور دو بچے بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔۴۷ ٹریفک منیجر بنگال ریلوے کا بیان ہے کہ : - اس علاقہ میں آمد و رفت کے ذرائع کے کلی انقطاع کا اندازہ کرنا آسان نہیں۔مختصر یہ ہے کہ نہ سڑکیں رہی ہیں نہ ریلیں نہ تاریں۔ملک کے وسیع قطعے سیلاب میں غرق ہیں۔اور عملی طور پر اس علاقہ میں سے گزرنا قطعاً ناممکن ہو رہا ہے۔اس وقت آنکھوں کے سامنے ابتری اور مایوسی کا منظر ہے اور آئندہ کے لئے سوائے خاموشی