مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 188 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 188

مضامین بشیر ۱۸۸ ودیہات کے متعلق موصول ہوئی ہیں۔مونگھیر ، دربھنگہ اور مظفر پور بالکل تباہ ہو گئے۔مونگھیر میں صرف چار مکانات باقی ہیں۔پٹنہ میں کوئی ایسی عمارت نہیں بچی جو بالکل یا جزوی طور پر مسمار نہ ہو گئی ہو۔اول الذکر شہر میں ہزاروں لاشیں برآمد ہو چکی ہیں اور ہزاروں ابھی چونے اور اینٹوں اور لوہے کے گاڈروں کے نیچے دبی پڑی ہیں۔شہروں اور شہروں کے باہر دیہاتی علاقوں میں زمین شق ہوگئی کنوئیں ابل پڑے اور بعض مقامات پر کئی کئی سو گز کی چوڑائی سے پانی میں فٹ اونچا فضاء میں کئی کئی گھنٹوں تک ابلتا رہا اور ایسی طغیانی آئی کہ وہ علاقے جو ہمیشہ خشک رہتے تھے سات فٹ گہرے پانی کی جھیل بن گئے۔پٹنہ کے قریب گنگا کا دریا پانچ منٹ کے لئے بالکل غائب ہو گیا اور پانچ منٹ کے بعد پورے جوش اور طغیانی کے ساتھ بہنے لگا۔غاروں سے گندھک اور ریت نکلتا رہا۔فصلیں تباہ ہو گئیں اور گاؤں کے گاؤں غرق ہو گئے۔آتشزدگی نے علیحدہ تباہ کیا مونگھیر اور مظفر پور میں ہزاروں انسان جو مر گئے ان کی لاشیں بلا امتیاز مذہب وملت دریا میں بہا دی گئیں۔جو باقی رہ گئے ان کی خانماں بربادی اور حسرت انگیز تباہی کا منظر قابل رحم ہے۔۴۲ سٹیٹس مین کا بیان ہے کہ :- مہا راجہ دربھنگہ کے محلات اور مکانات اس طرح زمین کے برابر ہو گئے کہ ان کے کھنڈروں کو پہچانا بھی نہیں جاسکتا ، ۴۳ وو اخبا رسول لا ہور لکھتا ہے کہ : - مہا راجہ صاحب دربھنگہ کے محلات کا یہ حال ہے کہ انند باغ محل کا مینار اور دیواریں زمین سے پیوست ہو گئی ہیں اور باقی بھی شکستہ ہو گئی ہیں۔نور گو از محل ، موتی محل بالکل کھنڈرات ہو گئے ہیں۔راج نگر جس پر مہاراج کے باپ نے ایک کروڑ روپیہ خرچ کیا تھا۔اب صرف ایک تباہ شدہ بستی اور اجاڑ کھنڈرات کا ڈھیر رہ گیا ہے۔مہا راجہ دربھنگہ کے کل نقصان کا موٹا اندازہ پانچ کروڑ روپے سے کم 66 نہیں ہے۔۴۴ اخبار سرچ لائٹ پٹنہ لکھتا ہے کہ ”جب بھونچال آیا تو اس کے ساتھ ہی زمین سے آگ نکلنی شروع ہوگئی۔جس سے موضع اکدھرم اور نتہو دونوں گاؤں تباہ ہو گئے ،۴۵