مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 179 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 179

۱۷۹ مضامین بشیر ۵۔اور بالآخر یہ بشارت بھی دے دی کہ اس حادثہ میں احمدیوں کی جانیں محفوظ رہیں گی۔اور پھر سب کچھ عین اسی طرح ظاہر ہوا جس طرح پہلے بتا دیا گیا تھا۔کیا اس سے بڑھ کر کوئی نشان ہو گا مگر افسوس کہ بہت تھوڑے تھے جنہوں نے اس نشان سے فائدہ اٹھایا اور اکثر لوگ انکار اور استہزاء میں ترقی کرتے گئے اور خدا کا یہ قول ایک دفعہ پھر سچا ہوا کہ : - يحَسُرَةً عَلَى الْعِبَادِمَايَا تِيهِمُ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوابِهِ يَسْتَهْزِءُ وُنَ۔عَ یعنی اے افسوس لوگوں پر ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر وہ اس کا انکار کرتے اور اسے ہنسی کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔“ آئیندہ زلازل کی پیشگوئی جب اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھا کہ اس کے اس عظیم الشان نشان سے لوگوں نے فائدہ نہیں اٹھا یا تو اس کی رحمت پھر حرکت میں آکر عذاب کی صورت میں تجلی کرنے کے لئے تیار ہوئی۔چنانچہ اس زلزلہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پے در پے زلزلوں کی خبر دی اور بار بار الہام فرمایا کہ اب تیری صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے خدا از مین کو غیر معمولی طور پر جنبش دے گا اور کثرت کے ساتھ زلزلے آئیں گے جن میں سے بعض قیامت کا نمونہ ہوں گے اور زمین کے بعض حصے تہ و بالا کر دیئے جائیں گے اور یہ زلزلے دنیا کے مختلف حصوں میں آئیں گے تا خدا اپنے قہری نشانوں سے لوگوں کو بیدار کرے اور تیری صداقت دنیا پر ظاہر ہو۔چنانچہ ۱۸اپریل ۱۹۰۵ ء کو خدا نے فرمایا : - تازه نشان تازه نشان کادهکه زَلْزَ لَهُ السَّاعَةِ قُوا أَنْفُسَكُمْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ۔١٨ یعنی لوگوں نے پہلے نشان سے فائدہ نہیں اٹھایا اس لئے اب ہم اور تازہ نشان دکھائیں گے اور یہ نشان دھکے کی صورت میں ظاہر ہوگا۔جو قیامت کا نمونہ ہو گا۔پس اے لوگو اس آنے والے عذاب سے اپنی جانوں کو بچاؤ۔اس کے ذریعے حق ظاہر ہو گا اور باطل بھاگ جائے گا۔“ - پھر ۱۹ اور ۱۰ اپریل ۱۹۰۵ء کو یہ الہام ہوا : - لكَ نُرِى ا يتٍ وَّنَهْدِمُ مَا يَعْمَرُونَ - 19 یعنی ہم تیرے لئے اور نشانات ظاہر کریں گے اور جو عمارتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں۔