مضامین بشیر (جلد 1) — Page 178
مضامین بشیر ۱۷۸ ،، موتا موتی لگ رہی ہے۔‘۱۳ گویا اس الہام میں یہ ظاہر کیا گیا کہ جس زلزلہ کا وعدہ دیا گیا ہے اس میں صرف مالی نقصان ہی نہیں ہوگا بلکہ جانی نقصان بھی ہوگا اور بہت سی جانیں ضائع جائیں گی لیکن چونکہ ان دنوں میں طاعون کا بھی دور دورہ تھا اور خیال ہوسکتا تھا کہ شاید یہ الہام طاعون کے متعلق ہو۔اس لئے یکم اپریل ۱۹۰۵ ء کو خدا نے الہام فرمایا : - مَحَوْنَا نَارَ جَهَنَّمَ۔١٢ یعنی ہم نے وقتی طور پر طاعون کی آگ کو محو کر دیا ہے۔“ یعنی یہ نہ سمجھو کہ یہ موتا موتی جس کی خبر دی گئی ہے طاعون کے ذریعہ ہوگی کیونکہ خدا کے علم میں یہ تباہی کسی اور حادثہ کے نتیجہ میں مقدر ہے۔پھر جب یہ زلزلہ بالکل سر پر آن پہنچا تو اس سے صرف ایک دن پہلے یعنی ۳ اپریل ۱۹۰۵ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا کہ : - موت دروازے پر کھڑی ہے۔۱۵۰ یعنی جس تبا ہی کی ہم نے خبر دی تھی۔اس کا وقت آن پہنچا ہے۔چنانچہ اس الہام کے دوسرے دن یعنی ۱۴اپریل ۱۹۰۵ء کو صبح کے وقت زلزلہ آیا اور اس سختی کے ساتھ آیا کہ ملک کی تاریخ میں اس سے پہلے اس کی نظیر بہت کم ملتی ہے اور یہ زلزلہ عین شرائط بیان کردہ کے مطابق آیا۔یعنی اس کی سب سے زیادہ تباہی ضلع کانگڑہ کے مقامات دھرم سالہ اور پالم پور وغیرہ میں ہوئی جو اس علاقہ میں مستقل اور عارضی رہائش کے بڑے مرکز تھے اور اس زلزلہ کے نتیجہ میں لاکھوں روپے کے مالی نقصان کے علاوہ کئی ہزا رلوگ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔چنانچہ سرکاری اعلانات سے پتہ لگتا ہے کہ اس زلزلہ میں قریباً ۳۰ ہزار جانیں ضائع ہوئیں اور بے شمار عمارتیں مٹی کا ڈھیر ہو گئیں۔14 مگر یہ خدا کا فضل رہا کہ جیسا کہ پہلے سے وعدہ دیا گیا تھا۔اس تباہی میں کوئی احمدی فوت نہیں ہوا۔اب ہر انصاف پسند شخص غور کرے کہ یہ کیسا عظیم الشان نشان تھا جو خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر ظاہر کیا۔خدا نے وقت سے پہلے۔ا۔عذاب کی نوعیت بتا دی۔۲۔عذاب کی جگہ کی طرف اشارہ کر دیا گیا۔۳۔تباہی کی تفصیل بیان کر دی۔۴۔عذاب کا وقت ظاہر فرما دیا۔