مضامین بشیر (جلد 1) — Page 158
مضامین بشیر ۱۵۸ میں اس سے زیادہ تمہیں کہنا نہیں چاہتا اور بس اسی قدر نصیحت کے ساتھ تمہیں خدا کے سپر د کرتا ہوں۔خدا تمہیں خیریت سے لے جائے اور خیریت سے رکھے اور ہر قسم کی مکروہات سے بچاتے ہوئے کامیاب اور مظفر و منصور واپس لائے۔امین اللهم امين نوٹ : ایک بات جو میں لکھنا چاہتا تھا۔مگر وہ لکھنے سے رہ گئی ہے۔وہ وہاں کی عورتوں کے متعلق ہے۔ولایت میں علاوہ اس کے کہ عورت بالکل بے پردہ اور نہایت آزاد ہے، آبادی کے لحاظ سے اس کی کثرت بھی ہے جس کی وجہ سے مردوں کو باوجود کوشش کے ان کے ساتھ ملنا پڑتا ہے اور اسی اختلاط کے بعض اوقات خراب نتائج نکلتے ہیں۔میں عورت ذات کا مخالف نہیں ہوں۔عورت اللہ کی ایک نہایت مفید اور بابرکت مخلوق ہے اور مرد کے واسطے رفاقت حیات اور اولاد کی تربیت کے نقطہ نگاہ سے عورت کا وجود ایک نہایت قابل قدر وجود ہے مگر غیر مرد عورت کا بے حجابانہ اختلاط اپنے اندر سخت فتنے کے احتمالات رکھتا ہے اور اسی لئے جہاں شریعت نے عورت کے وجود کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے وہاں یہ بھی تختی کے ساتھ حکم دیا ہے کہ غیر مرد و عورت ایک دوسرے کے ساتھ ملنے میں پردہ کی ان ان شرائط کو ملحوظ رکھیں۔ان شرائط میں سے خاص طور پر قابل ذکر یہ ہیں کہ (الف ) غیر مرد وعورت ایک دوسرے کی طرف آنکھیں اٹھا کر نہ دیکھیں۔(ب) وہ ایک دوسرے کے ساتھ خلوت میں دوسروں سے علیحدہ ہو کر نہ ملیں اور (ج) ان کا جسم ایک دوسرے کے ساتھ نہ چھوئے۔ان شرائط کے علاوہ شریعت نے اور کوئی خاص شرط پردہ کے متعلق نہیں لگائی۔پس میں امید کرتا ہوں کہ تم ولایت میں پردے کی ان شرطوں کی پابندی اختیار کرو گے اور دل میں خدا سے دعا بھی کرتے رہو گے کہ وہ تمہیں ہر قسم کے شر اور فتنہ سے محفوظ رکھے۔اللہ تمہارا حافظ و ناصر ہو۔( مطبوعه الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۳۳ء)