مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 8 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 8

مضامین بشیر پرشاہد ہے ، وہ کبھی اس نام سے موسوم نہیں ہوئے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ گذشتہ تمام مذاہب بوجہ قیود زمانی اور مکانی کے کامل نہ تھے۔اس لئے ان پر اسم ذات یا علم کے طور پر اسلام کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ مذہب لائے جوان قیود سے آزاد ہے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت ہر طرح سے کامل شریعت ہے۔اس لئے آپ کی بعثت سے یہ تبدیلی واقع ہوئی کہ آپ کا لایا ہوا مذ ہب نہ صرف حسب دستور سابق اپنی حقیقت کے لحاظ سے اسلام ہوا بلکہ علمیت کے طور پر اس کا نام بھی اسلام رکھا گیا۔اسی طرح آپ کی طرف منسوب ہونے والے لوگوں کا نام مسلمان ہوا۔گویا کہ آپ کی بعثت کی وجہ سے اسلام کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہونے لگا۔ایک وہی پرانے حقیقی مفہوم کے لحاظ سے اور دوسرے بطور علم یعنی اسم ذات کے۔گویا بجائے ایک کے دو دائرے قائم ہو گئے۔ایک حقیقت کا اور دوسرا علمیت کا۔اب یہ بالکل ظاہر ہے کہ علمیت کے دائرہ پر زمانہ کا کوئی اثر نہیں۔وہ اسی طرح قائم رہے گا ، جیسا کہ ایک دفعہ ہو چکا۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والی قوم ہمیشہ سے ہی مسلمان کہلائے گی۔اور جو کوئی بھی کلمہ لا اله الا الله محمد رسول الله پڑھے گا اس دائرہ کے اندر آ جائے گا لیکن حقیقت کا دائرہ جو علمیت کے دائرہ کے اندر ہے اس کا یہ حال نہیں بلکہ حقیقت کے متعلق سنت اللہ یہی ہے کہ وہ آہستہ آہستہ مدہم ہوتی جاتی ہے۔چنانچہ اسی غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسلام میں مجددین کے سلسلہ کو جاری فرمایا ہے۔تا حقیقت پر جو میل آ جاوے وہ اسے دھوتے رہیں اور حقیقت کو روشن کرتے رہیں لیکن اسلام پر ایک وقت ایسا بھی مقدر تھا جب اس کی حقیقت بالکل محو ہو جانی تھی اور ایمان دنیا سے کامل طور پر اٹھ جانا تھا۔( جیسا کہ لوکان الايمان معلقا بالثریا اور بعض دیگر احادیث نبوی و آیات قرآنیہ سے ظاہر ہے ) ایسے وقت کے لئے نبی کریم کی دوسری بعثت صفت احمدیت کے ماتحت اپنے ایک نائب کے ذریعہ مقد رتھی۔اس نائب کا دوسرا نام مہدی اور صحیح ہے۔وہ محمد رسول اللہ کا نائب صیح اور مہدی دنیا میں آیا اور اس نے مطابق سنت مرسلین پھر حقیقت اسلام کا دائرہ قائم کیا۔اس لئے اب جو شخص اس کو قبول نہیں کرتا اور اس کی تکذیب کرتا ہے وہ حقیقت اسلام کے دائرہ سے خارج ہے لیکن اگر وہ کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ پڑھتا ہے تو وہ علمیت کے دائرہ سے خارج نہیں اور کوئی شخص حق نہیں رکھتا کہ اسے مطلقاً دائرہ اسلام سے خارج قرار دے یا غیر مسلم کے نام سے پکارے۔وہ مسلم ہے اور حق رکھتا ہے کہ اس نام سے پکارا جائے مگر ہاں نائب ختم الرسل کے انکار نے اُسے بیشک حقیقت کے دائرہ سے خارج کر دیا ہے۔