مضامین بشیر (جلد 1) — Page 137
۱۳۷ مضامین بشیر پاکیزہ خانگی کا اثر مجھے اس رشتہ کے کمال اتحاد کا احساس سب سے بڑھ کر اس وقت ہوتا ہے جبکہ میں اس تاریخی واقعہ کا مطالعہ کرتا ہوں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ اس غیر مانوس اور غیر متوقع جلال الہی سے مرعوب ہوکر سخت گھبرائے ہوئے اپنے گھر میں آئے اور ایک سہمی ہوئی آواز میں اپنی رفیق حیات سے فرمایا کہ مجھ پر آج یہ حالت گذری ہے اور مجھے اپنے نفس کی طرف سے ڈر پیدا ہو گیا ہے۔اس وقت گھر میں بظا ہر حالات صرف یہی میاں بیوی تھے۔خاوند ادھیڑ عمر کو پہنچا ہوا۔اور بیوی بوڑھی۔گھر کی چاردیواری میں دوست و دشمن کی نظروں سے دور تکلف کا طریق بیرون از سوال تھا۔دونوں پندرہ سال کے لمبے عرصہ سے ایک دوسرے کے رفیق زندگی تھے۔ایک دوسرے کی خوبیاں ایک دوسرے کے سامنے تھیں۔اگر کوئی کمزوری تھی تو وہ بھی ایک دوسرے پر مخفی نہ تھی۔ایسی حالت میں جس سادگی کے ساتھ خاوند نے اپنی پریشانی اپنی بیوی سے بیان کی اور جس بے ساختگی کے عالم میں بیوی نے سامنے سے جواب دیا وہ اس مقدس جوڑے کے کمال اتحاد کا ایک بہترین آئینہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ کو دیکھ کر حضرت خدیجہ کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ تاریخ میں اس طرح بیان ہوئے ہیں : " كَلَّا، وَاللهِ مَا يَحْزُنُكَ اللهُ اَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الكَلَّ ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَتَقْرِى الضَّيْفَ ، وَتَعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقَّ۔ہے ہے ایسا نہ کہیں خدا کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں ہونے دے گا۔آپ رشتوں کی پاسداری کرتے ہیں۔اور لوگوں کے بوجھ اٹھاتے ہیں اور وہ اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے تھے ان کو آپ نے اپنے اندر پیدا کیا ہے اور آپ مہمان نواز ہیں اور حق وانصاف کے رستے میں جو مصائب لوگوں پر آتے ہیں ان میں آپ ان کی 66 اعانت فرماتے ہیں۔“ حضرت خدیجہ کے یہ الفاظ اپنے اندر ایک نہایت وسیع مضمون رکھتے ہیں جس کی پوری گہرائی تک وہی شخص پہنچ سکتا ہے جو دل و دماغ کے نازک احساسات سے اچھی طرح آشنا ہو۔ان الفاظ میں اس مجموعی اثر کا نچوڑ مخفی ہے جو پندرہ سالہ خانگی زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ