مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 136 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 136

مضامین بشیر زندگی اور گھر کی معاشرت کے متعلق کوئی رائے قائم کرنا چاہتا ہے اس کا یہ پہلا فرض ہے کہ ان حالات کو پورے طور پر مدنظر رکھے جو آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں نے آپ کے لئے پیدا کر رکھے تھے۔میں نے یہ الفاظ اس لئے تحریر نہیں کئے کہ میں آپ کی زندگی کے حالات کو آپ کی خانگی معاشرت پر رائے لگاتے وقت ایک موجب رعایت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں بلکہ میں نے یہ الفاظ اس لئے لکھے ہیں کہ تا یہ ظاہر ہو باوجود ان عظیم الشان ذمہ داریوں کے جو عام اسباب کے ماتحت یقیناً آپ کے خانگی فرائض کی ادائیگی کے رستے میں روک ہو سکتی تھیں۔آپ نے معاشرت کا وہ کامل نمونہ دکھایا جو دنیا کے ہر شخص کو خواہ وہ کیسے ہی حالات زندگی کے ماتحت رہا ہو شر ما تا ہے۔مگر یہ مضمون اس قدر وسیع ہے اور اس پر روشنی ڈالتے ہوئے اس قدر مختلف پہلو انسان کے سامنے آتے ہیں کہ اس مختصر گنجائش کو دیکھتے ہوئے جو ایڈیٹر صاحب الفضل نے (جن کی تحریک پر میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں ) اس کے لئے مقرر کی ہے اس مضمون پر زیادہ بسط کے ساتھ لکھنا تو در کنار معمولی اور واجبی تفصیل میں جانا بھی ناممکن ہے۔پس میں نہایت اختصار کے ساتھ صرف چند موٹی موٹی باتوں کے تحریر کرنے پر اکتفا کروں گا۔وما توفیقی الا بالله رسول کریم کی پہلی شادی سب سے پہلی شادی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی وہ حضرت خدیجہ سے تھی۔اس وقت آپ کی عمر صرف پچیس سال تھی اور حضرت خدیجہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ چکی تھیں اور بیوہ تھیں۔گویا آپ نے عین عنفوان شباب میں ایک ادھیڑ عمر کی عورت سے شادی کی۔بظاہر حالات یہ خیال ہوسکتا ہے کہ شاید یہ شادی کسی وقتی مصلحت کے ماتحت ہو گئی ہوگی اور بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی کوئی خوشی کی زندگی نہیں گذری ہوگی کیونکہ جہاں بیوی کی عمر خاوند کی عمر سے اتنی زیادہ ہو کہ ایک کی جوانی کا عالم اور دوسرے کے بڑھاپے کا آغاز ہو تو وہاں عام حالات میں ایسا جوڑا کوئی خوشی کا جوڑا نہیں سمجھا جاتا مگر یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا خوشی کا اتحاد ہوا ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ کی خانگی زندگی میں نظر آتا ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ۔کامل محبت ایک دوسرے پر کامل اعتماد۔ایک دوسرے کے لئے کامل قربانی کا نظارہ اگر کسی نے کسی ازدواجی جوڑے میں دیکھنا ہو تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ میں نظر آئے گا۔کیا ہی بہشتی زندگی تھی جو اس رشتہ کے نتیجے میں دونوں کو نصیب ہوئی۔