مضامین بشیر (جلد 1) — Page 129
۱۲۹ مضامین بشیر اپنے گھروں میں درس جاری کرو ایک عرصہ سے اس بات کی تحریک کی جا رہی ہے کہ مقامی جماعتوں کو چاہیئے کہ اپنی اپنی جگہ قرآن شریف اور حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درس جاری کریں لیکن ابھی تک بہت سی جماعتوں نے اس کا انتظام نہیں کیا۔جس کی وجہ کچھ تو یقینی طور پر غفلت اور بے پروا ہی ہے لیکن زیادہ تر مقامی حالات ہیں جن کی وجہ سے عموماً مقامی احباب کا ہر روز ایک معینہ وقت پر ایک معینہ جگہ پر جمع ہونا مشکل ہوتا ہے۔چنانچہ انہی دقتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے حضرت خلیفۃ امسیح ایدہ اللہ بنصرہ نے گذشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پر درسوں کے اجراء کی تحریک کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا کہ جہاں روزانہ درس نہ ہو سکے وہاں ہفتہ میں دوبار یا کم از کم ہفتہ میں ایک بار ہی درس کا انتظام کر دیا جائے۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے اس ارشاد کے ماتحت بہت سی نئی جگہوں میں درس جاری ہو گیا ہے اور خدا نے چاہا تو یہ سلسلہ بہت با برکت ہوگا۔جن جن جماعتوں نے ابھی تک ایسے درسوں کا انتظام نہ کیا ہو ان کو چاہیئے کہ فوراً اس کی طرف توجہ کریں۔لیکن اس موقع پر جس قسم کے درس کی میں تحریک کرنا چاہتا ہوں وہ گھر کا درس ہے۔ہمارے احباب کو چاہیئے کہ علاوہ مقامی درس کے اپنے گھروں میں بھی قرآن شریف اور حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس جاری کریں اور یہ درس خاندان کے بزرگ کی طرف سے دیا جانا چاہیئے۔اس کے لئے بہترین وقت صبح کی نماز کے بعد کا ہے لیکن اگر وہ منا سب نہ ہو تو جس وقت بھی مناسب سمجھا جائے اس کا انتظام کیا جائے۔اس درس کے موقع پر گھر کے سب لوگ مرد عورتیں لڑکے لڑکیاں بلکہ گھر کی خدمت گاریں بھی شریک ہوں۔اور بالکل عام فہم سادہ طریق پر دیا جائے۔اور درس کا وقت بھی پندرہ بیس منٹ سے زیادہ نہ ہو۔تا کہ طبائع میں ملال نہ پیدا ہو۔اگر ممکن ہو تو کتاب کے پڑھنے کے لئے گھر کے بچوں اور ان کی ماں یا دوسری بڑی مستورات کو باری باری مقرر کیا جائے۔اور اس کی تشریح یا ترجمہ وغیرہ گھر کے بزرگ کی طرف سے ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس قسم کے خانگی درس ہماری جماعت کے گھروں میں جاری ہو جا ئیں تو