مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 127 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 127

۱۲۷ مضامین بشیر ا رمضان المبارک کی برکات سے فائدہ اٹھاؤ یوں تو اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کے دروازے ہر وقت ہی کھلے رہتے ہیں اور بندہ جس وقت بھی اپنے خدا کی طرف رجوع کرے وہ اسے تو اب اور رحیم وکریم پائے گا۔بلکہ اس کی قدیم سنت کے مطابق اگر بندہ اس کی طرف ایک قدم آتا ہے تو وہ اس کی طرف دو قدم بڑھتا ہے اور اگر بندہ اس کی طرف چل کر آتا ہے تو وہ بھاگتا ہوا اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔لیکن پھر بھی بندوں کی بے تو جہی اور غفلت اور کمزوری کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ نے بعض خاص خاص اوقات کو اپنی رحمت کے غیر معمولی فیضان کے لئے مخصوص کر دیا ہے اور انہی خاص اوقات میں سے رمضان کا مہینہ ہے۔پس احباب کو چاہیئے کہ ان مبارک ایام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص رحمتوں اور فضلوں کو کھینچنے کی کوشش کریں اور ذکر الہی اور نیک اعمال اور صدقہ وخیرات اور دعا سے اپنے اوقات کو معمور رکھیں۔اگلا رمضان نہ معلوم کس کو نصیب ہوا اور کس کو نہ ہو۔پس جو موقع میسر ہے اس سے فائدہ اٹھا ئیں اور اس بات کا عہد کر لیں کہ رمضان کا مہینہ آپ کی زندگیوں میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا کر کے جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو چاہئے کہ ہر رمضان کے موقع پر اپنے دل کے ساتھ کم از کم یہ عہد باندھ لے کہ وہ اس رمضان میں اپنی فلاں کمزوری کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دے گا۔اور پھر اس عہد کو پورا کر کے چھوڑے تا کہ اور نہیں تو رمضان کا مہینہ اسے ایک کمزوری اور نقص سے تو پاک کرنے کا موجب ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت کے احباب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کی تعمیل کے لئے کمر ہمت باندھ لیں تو خدا کے فضل سے عید کا دن ہماری جماعت کے قدم کو بہت آگے پائے گا۔ہم لوگوں میں ابھی بہت سی کمزوریاں اور نقص ہیں۔کوئی نماز میں ست ہے کوئی چندوں کی ادائیگی میں ڈھیلا ہے کوئی لین دین میں صاف نہیں۔کوئی لغوا ور فضول عادات میں مبتلا ہے۔غرض کسی میں کوئی نقص ہے اور کسی میں کوئی۔پس آؤ آج سے ہم میں سے ہر فرد یہ عہد کرے کہ رمضان کے گذرنے سے قبل وہ اپنی فلاں کمزوری کو ترک کر دے گا اور پھر کبھی اپنے آپ کو اس کمزوری کے سامنے مغلوب نہیں ہونے دے گا۔یہ کوئی بڑا عہد نہیں ہے بلکہ ایک معمولی ہمت کا کام ہے۔اور اگر رمضان کا مہینہ اتنی بھی تبدیلی ہمارے اندر نہ پیدا کر سکے تو اس کا آنا یا نہ آنا ہمارے لئے برابر ہے۔