مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 100 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 100

مضامین بشیر نے ڈاکٹر صاحب کے مضمون سے سمجھ لیا ہے کہ وہ اس کوچے کے محرم نہیں۔ان کے مضمون سے مجھے خشک نیچریت کی بو آتی ہے۔ہاں اگر ڈاکٹر صاحب محبت کے ذوق سے شناسا ہوتے تو میں عرض کرتا کہ ذرا احادیث نبوی کو کھول کر مطالعہ فرمائیں کس طرح صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول و فعل ہر حرکت وسکون کو عشق و محبت کے الفاظ میں ملبوس کر کے بعد میں آنے والوں کے لئے جمع کر دیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی موقع پر صحابہ کے سامنے کھانا کھاتے ہیں۔اور گوشت میں کدو پک کر سامنے آتا ہے اور آپ کدو کے ٹکڑے شوق سے نکال نکال کر تناول فرماتے ہیں۔صحابہ کے لئے اس نظارہ میں بھی عشق و محبت کی غذا ہے وہ جھٹ احادیث نبوی کے مجموعہ میں اس روایت کو داخل کر کے اس محبت کی دعوت میں ہمیں بھی شریک کرنا چاہتے ہیں۔اس قسم کی روایتیں احادیث نبوی میں ایک دو نہیں دس ہیں نہیں پچاس ساٹھ نہیں بلکہ سینکڑوں ہیں۔اور اہل دل اس سے محبت و عشق کی غذا حاصل کرتے ہیں۔لیکن میں اگر اس قسم کی کوئی روایت اپنے مجموعہ میں درج کر دیتا ہوں تو مجرم سمجھا جاتا ہوں۔اور ڈاکٹر صاحب میرے اس نا قابل معافی جرم کو پبلک کی عدالت کے سامنے لاکر مجھے ذلت و بد نامی کی سزا دلوانا چاہتے ہیں۔اچھا یونہی سہی۔ع ایس ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دگر ایک اعتراض اور دراصل اس روایت کے متعلق سارے اعتراضوں میں سے اکیلا سنجیدہ اعتراض ڈاکٹر صاحب کا یہ ہے کہ یہ بات حضرت صاحب کے طریق واخلاق کے خلاف ہے کہ آپ نے ایک ایسی مجلس میں جس میں ایک موٹا آدمی بھی بیٹھا ہو ، اس قسم کے الفاظ فرمائے ہوں کہ موٹا آدمی منافق ہوتا ہے۔یہ ایک معقول اعتراض ہے اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ واقعی حضرت صاحب کا طریق ہرگز ایسا نہ تھا کہ مجلس میں اس قسم کی کوئی بات کریں کہ جو کسی کا دل دکھانے والی ہو یا جس میں صریح طور پر کوئی شخص اپنے متعلق اشارہ سمجھے مگر ساتھ ہی میں یہ بھی کہوں گا کہ موجودہ روایت کے متعلق حضرت مسیح موعود کے اس طریق کی رو سے کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اول تو روایت کے الفاظ میں اس مجلس کے اندر خواجہ کمال الدین صاحب کی موجودگی کو ” غالبا کے لفظ سے ظاہر کیا گیا ہے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ راوی کو خواجہ صاحب کے وہاں موجود ہونے کے متعلق یقین نہیں ہے بلکہ شک ہے اور کوئی عقل مند ایک غیر یقینی بات پر اپنے اعتراض کی بنیاد نہیں رکھ سکتا۔لیکن افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس لفظ کو بالکل نظر انداز کر کے ایسے طور پر اعتراض پیش کیا ہے کہ گویا راوی کے نزد یک خواجہ صاحب کا اس مجلس میں موجود ہونا یقینی ہے۔حالانکہ بالکل ممکن ہے کہ خواجہ صاحب وہاں