میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 87
75 دے دیگی۔کیا ایک ہزار آدمی جنہیں گورنمنٹ جانتی ہے کہ یہ سب نمبر 0 السٹ میں درج ہیں۔ان کی رپورٹ پر اس سرکاری افسر کو سزا ضرور ملنا چاہئے۔کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے؟ نواب صاحب بولے ایسے لوگوں پر ہر گز اعتماد نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی کسی قسم کی سزا دینی چاہئے۔یہ تو سرا سر نا انصافی ہوگی۔میں نے کہا کہ مجھے بھی آپ کی شرافت پر یہی بھروسہ تھا کہ آپ اسے نا انصافی ہی گردانیں گے۔اب میں آپ سے مودبانہ عرض کرتا ہوں کہ جن لوگوں نے ہم پر پر فتوی لگایا ہے اگر ان میں سے ایک فرقے والا بھی یہ ثابت کر دے کہ ہم یہ فتوی لگانے سے پہلے ان پر یہ فتویٰ نہیں لگا ہوا تو میں آپ کا غریب بھائی ہوں اسے اسی جگہ پر نقد یکصد روت بطور انعام دوں گا اور اسی وقت نہ صرف اس جگہ سے بلکہ اس ملک ہی سے نکل جاؤں گا۔آپ میرا یہ پیغام ان تک پہنچا دیں کہ یہ ثابت کر کے کہ ان کے فرقہ پر کسی دوسرے فرقے والے نے کوئی فتوی نہیں لگایا مجھ سے یکصد روپیہ انعام لے جائیں اور مجھے اپنے سامنے اس ملک سے نکلتے ہوئے دیکھ لیں۔مگر نواب صاحب آپ میری یہ بات ذہن نشین کرلیں بلکہ نوٹ کر لیں کہ وہ ہر گز میدان میں نہیں آئیں گے۔چاہے دیو بندی ہوں، بریلوی ہوں یا خدام صوفیہ ہوں ، وھابی ہوں شیعہ ہوں یا چکڑالوی ہوں۔کوئی بھی میدان میں آنے کی جرات نہیں کرے گا۔یہ من کر نواب صاحب کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور وعدہ کر کے چلتے بنے۔بعدہ گاؤں کے سب لوگ خوب ہنسنے لگے کہ مولوی صاحب نواب صاحب کے آنے پر بڑے زور میں تھے اگر ان میں کچھ بھی شرم ہوئی تو دوبارہ آنے کا نام نہ لیں گے۔یہ نواب تو بڑا باتونی تھا، آپ کا اس پر رعب پڑ گیا ہے۔میں نے مقامی لوگوں سے نواب صاحب کی مالی حقیقت پوچھی تو معلوم ہوا کہ غفورن بٹھیاری ان کی اہلیہ ہے۔یہ سب زمینیں بیچ کر کھا چکا ہے۔ان کی کوئی اولاد نہیں ہے صرف دو یکے رکھے ہوئے