میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 74
62 عمر دے۔یہ ٹھا کر بڑا آریہ تھا اس کی خوب رات کو خبر لی ہے۔گاؤں کے سب مرد اور عورتیں کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں اتنا بڑا اور کوئی مولوی نہیں ہے۔ہم تو اب اپنے بچوں کو اس سے پڑھوائیں گے۔میں نے اپنے پیارے خدا کا شکر ادا کیا۔ادھر ملکا نہ لڑ کے مقامی ہندو ٹھاکروں کو بتا رہے تھے کہ کیوں بھئی رات کو آریہ کا تماشا دیکھا کہ ایک جورو اور گیارہ مرد "۔وہ ٹھاکر یہ سن کر کہتے کہ یہ آریہ بہت گندے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد ٹھاکر گردندر سنگھ اور بہت سالوگوں کا ہجوم پہنچ گیا۔سارا میدان شائقین سے بھر گیا۔میں نے سب بھائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رات کو ٹھاکر صاحب نے کسی گم نام آریہ کے دو شعر سنائے تھے کہ ان قادیانیوں کو قتل کر دو باتوں میں کامیابی مشکل ہے۔میں نے ان کے شعروں کا جواب اشعار میں ہی دینے کا وعدہ کیا تھا۔کیا وہ پہلے سالوں یا پہلے دوسری باتیں ہونی چاہئیں۔سب نے کہا پہلے شعر سناؤ۔میں نے شعر سنانے شروع کر دیئے۔ان میں مسئلہ نیوگ ، جو نیں بدلنا وغیرہ سب کچھ بیان کر دیا۔اس کے ابتدائی شعر یہاں سے شروع ہوتے ہیں۔کیا ڈراتے ہو ہمیں کہ مار دیں گے جان سے کیا ڈرا کرتے ہیں وہ جو عبد ہیں رحمان کے ہم تو مر اس دن گئے تھے جب ہی گھر سے چل پڑے اے سفیہ کیا ہے تو واقف احمدی ایمان سے مرنا بہتر ہے ہمارا گرچہ تم نے دیکھنا ہو زندہ رہنا اور بھی بار رو تم جان سے پر عورتوں میں بیٹھ کر للکارنا اچھا نہیں سامنے مردوں کے آ اور جیت کے میدان سے