میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 60
48 تیار رہیں اور کل دس بجے اپنا مختصر سامان ، کھانا اور کپڑے وغیرہ ہمراہ لیکر دفتر تشریف لے آئیں۔یہ سن کر میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور اگلے دن مع سامان اور ساٹھ روپے نقد لے کر دفتر پہنچ گیا۔وہاں سے سرٹیفکیٹ ملا کہ "حامل سرٹیفکیٹ جماعت احمدیہ قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کا ہونا نائڈ مشنری ہے۔اسے ہر جگہ جانا پڑے گا اور ضرورت کے مطابق لباس بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔اس لئے گورنمنٹ اسے مشتبہ نظر سے نہ دیکھے وغیرہ وغیرہ۔مورخہ ۴ / اپریل ۱۹۲۳ء کو دفتر سے تبلیغی و فود کی روانگی اور سفر آگرہ فارغ ہونے کے بعد وفد کے اصحاب جو تعداد میں پچیس کے قریب تھے اکٹھے ہوئے اور ہمیں حضور اور دیگر افراد جماعت کثرت سے ڈلہ کے موڑ تک الوادع کرنے گئے۔حضور نے حسب معمول نصائح فرما ئیں اور اعلان کیا کہ جس کو نئی بستی میں داخل ہونے کی دعا یاد ہے وہ گاڑی میں ہی سب احباب کو حفظ کرا دے مجھے اور عبدالرحیم صاحب کو یہ دعا یاد تھی چنانچہ ہم نے سب کو یاد کروانے کا اقرار کیا۔حضور نے بعد دعا و معالفقہ ہمیں رخصت کیا۔ہم پیدل ہی جا رہے تھے اور بار بار مڑ کر پیچھے دیکھ لیتے تھے۔حضور بھی اس وقت تک کھڑے نہیں دیکھتے رہے جب تک ہم انہیں دکھائی دیتے رہے۔ہم تیزی کے ساتھ چلتے رہے۔عصر کی نماز قصر کر کے ہم نے نہر کے کنارہ پر نماز یا جماعت ادا کی اور مغرب کے بعد ہالہ پہنچے رات کو بٹالہ سے بذریعہ گاڑی روانہ ہوئے اور اگلے دن بعد دو پر آگرہ پہنچے۔وہاں چوہدری فتح محمد صاحب سیال امیر تھے۔انہوں نے ہمارے لئے حلقوں کا انتخاب کیا۔جو لوگ مجھ سے واقف تھے وہ مجھے اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔آخر بابو جمال الدین صاحب جو ایڈیٹر نور محمد یوسف صاحب کے سر تھے انہوں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ میں