میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 48
38 آئے۔دس پٹھانوں کی گائے ذبح کرنے پر ڈیوٹی تھی اور انہیں سارا کام سمجھا دیا گیا تھا۔ادھر سکھ دیکھ رہے تھے اور سپاہی ان کو کام پر بھیج رہے تھے۔صاحب نے پٹھانوں کو روکا کہ یہ کام مت کرو۔مت کرو۔مگر پٹھان یہ کہتے ہوئے (بلند آواز سے) کہ صاحب آج ہمارا بڑا دن ہے۔ہم گائے کی قربانی دیں گے گائے کو ذبح کر دیا۔سکھ دوسری طرف منہ کر کے کام پر چلے گئے اور صاحب یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کا تختی سے نوٹس لیں گے اپنے کوارٹر کی طرف چلے گئے۔کافی بکرے بھی ذبح کئے گئے تھے۔غرضیکہ شام تک خوب جشن ہو تا رہا۔ایک گیانی سے بحث عید کے دن شام کو ایک گیانی کرپان پہنے ہوئے میرے پاس آیا۔مسلمان فورا" اکٹھے ہو گئے اور گیانی سے اس کی آمد کے متعلق پوچھا اس نے کہا کہ میں نے مولوی صاحب سے بات کرتا ہے۔میں نے کہا کہ پھر آپ بیٹھ کر بات کریں۔کہنے لگا کہ قرآن کریم میں کہیں بھی گائے کا گوشت کھانا نہیں لکھا۔میں نے کہا قرآن کریم میں تو ہم ہی جانتے ہیں کہ کتنی دفعه گوشت کھانے کے متعلق لکھا ہے مگر آپ یہ بتائیں کہ گرنتھ میں گوشت کھانے کے متعلق کہاں ذکر آیا ہے۔کہنے لگا کہ میرے ساتھ تاریخ کا تعین کر لو اور پھر ہم بحث کریں گے۔میں نے مسلمان بھائیوں سے مشورہ کر کے آئندہ اتوار کا تعین کر لیا۔چنانچہ صاحب (کیمپ کمانڈر) کو بھی اس بحث کی اطلاع کر دی گئی۔سکھوں اور مسلمانوں نے دونوں طرف بہت خوبصورت سٹیج بنائے۔وقت مقررہ پر کیمپ کمانڈر اور اس کی بیوی ہمارے سٹیج پر بیٹھ گئے۔وہاں سگریٹ اور چائے کا بھی انتظام کیا ہوا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد ان کی طرف سے ایک سفید پوش گیائی اٹھا جس کی داڑھی ٹاف سے بھی کچھ نیچی تھی اور کچھ پڑھ کر اس کا ترجمہ کیا کہ گرو گرنتھ صاحب نے مانس کھانے کی ممانعت کی ہے اور جنم ساکھی میں بھی کہیں مانس کھانا نہیں لکھا۔مجھے