میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 21 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 21

15 طاعون پھیلی ہوئی تھی اور ہم باغ کے پاس حضور کے حکم کے تحت چلے گئے تھے کیونکہ نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے کہ وباء کے ایام میں دوسری بستی میں نہیں جانا چاہئے البتہ کھلے میدان میں چلے جانا چاہئے۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ء بروز منگل حضرت مسیح موعود کا حضرت مسیح موعود کی وفات لاہور میں وصال ہو گیا۔جب آپ کی وفات کی اطلاع بذریعہ تار قادیان پہنچی تو کسی کو بھی اعتبار نہ آیا اور یہی خیال کیا جانے لگا کہ کسی دشمن نے ایسا تار بھیج دیا ہے۔چنانچہ بٹالہ سے تار بھجوا کر دوبارہ پتہ کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ کی واقعی وفات ہو گئی ہے۔قادیان کے احمدیوں کی حالت اس اچانک خبر سے ناگفتہ بہ تھی۔شاید ہی کوئی ایسا احمدی ہو جس کی آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہوئے ہوں۔غرضیکہ جماعت کے لئے بہت بڑا دھوکا تھا۔مگر خدا تعالٰی کے نوشتے تو پورے ہی ہو کر رہتے ہیں۔۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو بوقت دس بجے دن آپ کا جنازه قادیان پہنچا۔باغ والے مکان کے صحن میں تمام سکھوں ، ہندوؤں ، غیر احمدیوں اور عیسائیوں کو آپ کے چہرے کا دیدار کرایا گیا۔اسی دن حضرت مولوی نورالدین صاحب کو تمام جماعت کے اراکین نے متفقہ طور پر خلیفہ منتخب کیا اور پھر سب نے حضور کی بیعت کی۔خواجہ کمال الدین صاحب مولوی محمد علی صاحب ، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب سید محمد حسین شاہ صاحب، شیخ رحمت الله صاحب و دیگر ممبران صدر انجمن احمدیہ نے اعلان کیا کہ حضرت خلیفتہ المسیح کی اطاعت ہم پر اسی طرح واجب ہے جس طرح حضرت مسیح موعود کی تھی۔بعدۂ خلیفہ اول نے آپ کا جنازہ پڑھایا جس میں ہم سب نے شرکت کی۔آپ کے جنازہ میں غیر احمدیوں نے بھی کثرت سے شرکت کی۔بعد میں حضور کے جسد اطہر کو تابوت میں رکھ دیا گیا اور اس عاشق رسول ﷺ کو اللہ تعالی کے سپرد کرتے ہوئے دفن کر دیا گیا۔تدفین مغرب کے