میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 249 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 249

237 پہاڑی پر سے لیمپ کی روشنی دکھائی دی۔ہم نے انہیں بیٹری کی روشنی دکھائی تو وہ جان گئے کہ مولوی صاحب آرہے ہیں۔وہ احمد کی دوست ہمارا ہی انتظار کر رہے تھے جو ہمارے لیے پلاؤ پکا کر لائے ہوئے تھے۔وہ استقبال کے لیے آگے آگئے۔وہاں پانی کی ایک ندی تھی وہ اسکے کنارے پر آکر بیٹھ گئے اور ہم بھی وہاں پہنچ گئے۔سب سے ملاقات ہوئی وہ بڑے خوش ہوئے وہیں کھانا کھایا اور پھر تسلی سے شہر اپنی قیام گاہ پر چلے گئے۔غالبا ۱۹۲۵ء میں ملکانہ کے علاقہ میں نگلہ گھنو ضلع خدا تعالیٰ کا نور کیسے دیکھا؟ ایٹہ اپنے ہیڈ کوارٹر میں تھا۔رمضان شریف کے روزے رکھ رہا تھا اور ہمیں رمضان المبارک بعد نماز عصر وہاں کی بیت میں اعتکاف بیٹھ گیا۔جب ستائیسویں روزے کی گزشتہ شب نماز تہجد ادا کر رہا تھا تو دعائے قنوت پڑھنے کے بعد مجھ پر کھڑے کھڑے ہی غنودگی طاری ہو گئی اور اسی حالت میں مجھے نور نکلتا ہوا دکھائی دیا وہ ایسا خوشنما تھا۔کہ جس کی سفیدی میں کچھ سبز رنگ کی جھلک تھی۔وہ اتنا تیز ہو گیا کہ اگر اس نور میں کچھ اور تیزی آجاتی تو میں بے ہوش ہو کر گر جاتا اور معابے ساختہ میرے منہ سے نکل گیا بس بس بس۔۔۔" اس مسجد کا محافظ میرا کھانا گھر سے لایا ہوا تھا۔”بس بس بس۔۔۔" کے میرے یہ الفاظ سن کر وہ بے تاب ہو گیا کہ مولوی صاحب کو کیا ہو گیا ہے؟ جب اس نے پردہ اٹھا کر اندر مجھے دیکھا تو میں سجدہ میں جا چکا تھا۔ذرا ہوش قائم ہونے پر میں سجدہ میں گیا تھا۔سلام پھیرنے پر اس نے پوچھا کہ مولوی صاحب آپ یہ بس بس بس کس کو کہہ رہے تھے۔میں نے اسے بتایا کہ میاں صاحب میری بڑی مدت سے خواہش تھی اور میں دعا کیا کرتا تھا کہ مولا کریم جب ہم دعا کرتے ہیں تو کس چیز کو سامنے رکھیں۔آپ نے اپنے کسی بندے (یعنی حضرت موسیٰ) کو تو اپنا نور دکھا کر اور اس کا جلوہ