میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 224 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 224

212 عرصہ ہی ہوا تھا کہ مجھے نوجوانوں نے مشورہ دیا کہ آپ اس جگہ پختہ اڈہ جمانے کے لئے اپنے گھر والوں کو یہیں لے آئیں۔میں نے دفتر سے منظوری حاصل کی اور پیدل پٹھانکوٹ والا راستہ اختیار کیا۔تین دن میں اسی میل پیدل اور تھوڑا سا سواری پر سفر کیا۔قادیان سے گھر والوں کو لے کر جموں پہنچا اور پھر بوٹ سے کچھ آگے گھوڑوں پر باون میل سفر کر کے بھدرواہ پہنچا۔وہاں ایک چھوٹے سے مکان میں آمده دسمبر تک گزارہ کیا۔اس وقت تک عبدالرحمن خان صاحب اور ملک عبد الرحمن صاحب ند عبدالله صاحب جمال الدین صاحب اور ان کے دو بھائی ماسٹر عبدالکریم صاحب ان کی والدہ ہمشیرہ و بھانجی صاحبہ غلام محمد صاحب سنار ، ماسٹر محمد صدیق صاحب مع چھ بچے و المیہ صاحبہ غلام رسول صاحب خطیب مع چھ بچے اور المیہ صاحبہ غلام رسول صاحب گنائی، غلام نبی صاحب ، غلام حیدر صاحب مع تین بیٹیاں اور اہلیہ صاحبہ ان تمام افراد پر مشتمل ایک جماعت قائم ہو گئی۔اکثر پڑھے لکھے نوجوان تھے۔ہم جلسہ پر واپس قادیان آگئے۔بعد جلسہ یہ طریق رہا کہ ہر سال دو ماہ کے لئے بھدرواہ اور باقی عرصہ جموں اور پونچھ وغیرہ کے علاقہ میں دورہ کرتے رہنا اور جلسہ کے ایام میں قادیان واپس پہنچ جانا۔ان دنوں جموں شہر میں میرا تبلیغی ایک احمدی عورت کی وفات پر ہنگامہ کیا کروں ہیڈ کوارٹر تھا۔مجھے ایک احمدی خاتون کی وفات کی خبر ملی اور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ احراریوں نے قبرستان پر قبضہ کیا ہوا ہے۔وہ سب ڈنڈوں وغیرہ سے مسلح ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی مرزائی مرد و زن کو یہاں دفن نہیں ہونے دیں گے۔وہاں کے پریذیڈنٹ میاں غلام محمد صاحب خادم نے آکر مجھے سارے حالات بتائے اور پوچھنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہئے۔میں نے کہا کہ ہم تو ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔آپ سیدھے SP صاحب کے پاس چلے