میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 213 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 213

201 آسمان سے نہیں آیا اور نہ بجسد عصری آسمان پر گیا ہی ہے۔ہمیشہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں میں سے ہی چن لیتا رہا ہے۔اگر کوئی آسمان پر سے آئے تو وہ زمین والوں کے لئے نمونہ نہیں ہو سکتا کیونکہ باقی لوگ آسمان سے نہیں آئے ہوتے۔جلسہ نہایت خیر و خوبی سے شام تک جاری رہا۔رات میں انہی نمبردار صاحب کے گھر میں رہا۔میرے ہمراہ دن احمدی نوجوان بھی رہے رات خوب مسئلے مسائل بیان ہوتے رہے۔نمبردار صاحب کے گھر والوں اور خاندان پر بہت اچھا اثر ہوا۔اگلے دن دوپہر کے وقت ہم سب بڑھانوں کی جانب روانہ ہو گئے۔بعد میں معلوم ہوا کہ بعض مخالف مولوی سید ولایت شاہ فاضل دیو بند کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ یہ ہیں روپے لے لو اور قادیانی مولوی کا مقابلہ کرو۔سید صاحب نے انہیں جواب دے دیا کہ وہ تو مناظر ہیں اور میں مناظر نہیں ہوں اس لئے آپ چار پانچ سو روپیہ اکٹھا کر کے پنجاب سے کوئی مولوی منگوالیں جو ان کا مقابلہ کر سکے۔سارے پہاڑ میں کشمیر تک ان کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔یونی اس کے ساتھ نہ الجھ جاتا ورنہ سارا گاؤں احمدی ہو جائے گا۔سید صاحب میرے دوست بھی تھے اور احمدیت کے مداح بھی تھے۔تیسرے دن ہم چار کوٹ واپس آگئے۔ہماری رہائش دار التبلیغ میں تھی۔میری بیویاں وہاں کے احمدی بچوں کو قرآن کریم و دیگر مسائل پڑھاتی تھیں۔دار التبلیغ کے پاس ہی جامع مسجد تھی جس پر درج ذیل الفاظ لکھے ہوئے تھے۔تعمیر احمد ید دار التبلیغ زیر نگرانی ایم محمد حسین احمدی مبلغ قادیانی - ۱۹۳۹ء ཡ بعد جلسہ جو بلی دفتر سے مجھے حکم ملا کہ بھدرواہ ضلع اور ھم پور حلقہ بھر رواه چلے جائیں اور اس نئے علاقہ میں تبلیغ کا کام شروع کر دیں۔اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے جنوری ۱۹۴۰ء میں براستہ جموں بھدرواہ روانہ ہوا۔میرے ہمراہ مولوی عبد الواحد صاحب مبلغ کشمیر اور ان کی اہلیہ صاحبہ تھے۔جموں پہنچ