میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 204 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 204

192 رات بڑے آرام سے گزری۔صبح پھر انہوں نے توفیق کے مطابق میرے لئے ناشتہ تیار کیا۔ناشتہ کے بعد پھر ہم نے جنگل کا سفر شروع کر دیا۔راستہ میں دوبارہ بارش شروع ہو گئی۔بہت بڑے بڑے قدرت کے لگائے ہوئے درخت دیکھنے میں آئے۔دیار کے بعض درخت اتنے بڑے تھے کہ ان کے تنوں کا پھیلاؤ چالیس فٹ کے قریب تھا گویا درختوں کے پہاڑوں کے پہاڑ کھڑے نظر آتے تھے۔مختلف قسم کے جانور قسم قسم کی بولیاں بول کر اپنی حکومت اور رہائش کی طرف اشارہ کر رہے تھے گویا کہ وہ اس جنگل کے واحد مالک تھے۔بھیگتے ہوئے ہم امیر پور پہنچے جو شوپیاں سے سات میل کے فاصلہ پر ہے۔وہاں ایک درزی کی دوکان تھی۔اس درزی سے کہا کہ ہم نے یہاں رات گزارنی ہے۔اگر یہاں کوئی مسجد سکول یا سرائے ہے تو ہمیں بتاؤ۔وہ مجھے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے کہنے لگا کہ پہلے یہ چائے کی پیالی پیئں اور پھر ہماری دکان کے اوپر سکول ہے۔ماسٹر سے پوچھ کر رات گزار لینا۔ہم جب اوپر گئے تو سکول کا دروازہ باہر سے بند تھا۔دروازہ کھول کر اندر چلے گئے۔سکول کے صحن میں ماسٹر صاحب کی چارپائی پڑی تھی اور ساتھ ہی بستر پڑا تھا۔میرے ساتھیوں نے اس کا بستر اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا اور میرا بستر بچھا دیا۔تھوڑی دیر کے بعد ماسٹر صاحب تشریف لے آئے۔ہم اس وقت نماز وغیرہ سے فارغ ہو چکے تھے۔اس سے بات چیت ہوئی کہ ہم نے رات آپ کے ہاں گزارنی ہے۔کہنے لگے بہت اچھا۔میں نے کہا کہ میرے ساتھیوں کو کوئی ایسا مکان بتا دیں جہاں یہ روٹی وغیرہ با آسانی پیکا سکیں۔کہنے لگے آپ کا کھانا میں لاؤں گا اور انہیں جگہ بتا دیتا ہوں۔گویا اس بیچارے نے سب کام کروا دیا۔میرے لئے کشمیری کھانا شلغم چاول لے آئے میں نے بھی خوب کھائے۔شام کی نماز پر چند آدمیوں کو بلایا گیا جن میں ایک مخالف بھی آگیا۔اس نے بہت سے اعتراضات بھی کئے جن کے تسلی بخش جواب سن کر