میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 172
160 نے کہا کہ مرزائیت کو اڑانے کے لئے آپ جیسے بہت شیر قالین اٹھے مگر خوبیجان ثابت ہوئے اور خدا تعالٰی نے احمدیت کو ہر جگہ قائم کر دیا اب اگر تم ہم چلاؤ گے تو اللہ تمہارے گلے میں وہ ہم پہنچا دے گا کہ تمہارا سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ تیسری ٹرن میں ہی سنار کا گلا ایسا بند ہوا کہ بات تک نہ منہ سے نکال سکے۔خدا تعالٰی نے گلے ہی سے پکڑ لیا۔یہ واقعہ دیکھ کر پبلک بہت حیران ہوئی۔وہابیوں نے کہنا شروع کر دیا کہ قادیانی مولوی نے کوئی کلام پڑھ کر پھونک مار دی ہے جس سے ہمارے مولوی کا گلا بند ہو گیا ہے۔چنانچہ سارے مجمع پر اس مناظرے کا بہت اچھا اثر رہا۔پھر جب ہم پونچھ پہنچے تو مولوی محمد صادق صاحب سماری پونچھ میں مناظرے کی کم گوئی کی وجہ سے مولوی عبدالرحمن فاضل دیو بندی اور کرم دین سنار نے پھر مناظرے کا چیلنج دے دیا۔جماعت نے منظور کر لیا۔مولوی محمد صادق صاحب کا مولوی عبد الرحمن صاحب سے حیات و ممات مسیح پر اور میرا کرم دین سنار سے صداقت حضرت مسیح موعود پر مناظرہ ہونا قرار پایا۔دونوں مناظرے خدا تعالٰی کے فضل سے دلائل کی وجہ سے بہت کامیاب رہے لیکن احمدی احباب یہی کہتے رہے کہ دونوں مناظرے آپ ہی کو کرنے چاہئیں تھے۔مولوی صاحب کو سارے علاقے کا رہتال تک دورہ کرا کر جب ہم راجوری پہنچے تو مولوی محمد حیات کھودہ چار مولویوں کے ہمراہ راجوری میں جلسہ کرنے کے لئے آگئے۔اگلے دن مولوی محمد حیات کھورہ کی تقریر " مرزا صاحب کی اسلام کی توہین " کے موضوع پر شروع ہوئی۔ہم بھی کتب لے کر جلسہ کے سنٹر میں جا بیٹھے ساری پبلک مجھ سے واقف تھی۔یہ جلسہ راجوری کے تحصیلدار کی صدارت میں ہو رہا تھا جس میں احمدیت کے خلاف ذلیل الزام لگا کر پبلک کو مشتعل کیا جا رہا تھا۔میں نے کھڑے ہو