میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 144
132 لئے بازار جانا بند کر دیا تھا۔تھانے دار صاحب سے تبلیغی گفتگو مستری صاحب کے پڑوس میں ایک تھانیدار صاحب کا گھر تھا اور وہ رخصت پر آئے ہوئے تھے۔ان کے پاس مستری صاحب نے بیان کیا کہ ہمارے ہاں ایک احمدی مبلغ آئے ہوئے ہیں بڑے نیک تجد گزار اور ہر قسم کے اعتراض کا بڑی خوشی سے مدلل جواب دیتے ہیں۔تھانیدار صاحب دوپہر کے بعد سرائے میں ی تشریف لائے۔اچھا علمی شغف رکھتے تھے انہوں نے عیسائیوں اور آریوں کے دین حق پر اعتراضات بیان کئے۔میں نے ان کے تفصیلا" جواب دیئے۔وہ سن کر بہت خوش ہوئے۔پھر احمدیت کی تعلیم پوچھنے لگے۔میں نے کہا وہی تعلیم جو ہمارے آقا سرور کائنات لائے تھے وہیں۔اس کے علاوہ دوسرے مولوی صاحبان ہم پر جو اعتراضات کرتے ہیں ان کے جوابات دیئے۔تین گھنٹے بیٹھے باتیں کرتے رہے۔پھر دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے چلے گئے۔دوسرے دن ایک مولوی صاحب کو ہمراہ لیکر آئے۔مولوی صاحب نے آتے ہی کہہ دیا کہ میں ان کو کافر سمجھتا ہوں۔اس کی اس بات پر تھانیدار صاحب اور مستری صاحب نے بہت برا منایا۔میں نے کہا مولوی صاحب آپ یہ بتائیں کہ آپ نے اتنی جلدی پیچھا چھڑانے کی کوشش کیوں کی ہے؟ آپ کو چاہئے تھا کہ آپ پہلے میرے عقائد سنتے اور پھر کہتے کہ یہ عقیدہ رکھنا کفر ہے تو اس طرح مجھے بھی غور کرنے کا موقع مل جاتا اور آپ کو ثواب بھی ملتا مگر " لا تقف ما لیس لک به علم " کے خلاف آپ نے آتے ہی عمل کر لیا۔کہنے لگے میں جانتا ہوں کہ آپ نے مغل کو نبی مان لیا ہے۔میں نے کہا کہ آپ کے علم میں اضافہ کے لئے بتا دیتا ہوں کہ ہم لوہار ، ترکھان ، سنگ تراش ، ساربان دری بان اور مصور کو بھی نبی مان چکے ہیں۔پوچھنے لگے وہ کون تھے؟ میں نے بتایا