میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 143
131 کرنے کے لئے باہر نکل جاتا تھا۔علاقہ مخالفین کا گڑھ تھا۔مولوی محمد عبد اللہ صاحب فاضل امرتسری اور ان کے بھتیجے حافظ محمد اسماعیل و مولوی عبد القادر صاحب یہ سب دوست اہل حدیث تھے اور مولوی عبد الرحمان صاحب حنفی تھے۔بازار میں لوگوں کو اپتہ چل گیا کہ یہ احمدی مبلغ ہے۔انہوں نے چھوٹے چھوٹے بچے اکٹھے کر کے میرے پیچھے لگا دیئے جو مرزائی او مرزائی اور کئی قسم کے نعرے اور شور مچاتے رہے۔میں اسی حالت میں شہر سے باہر نکل آیا اور نہر کے پل سے چار آنے کی ریوڑیاں خرید کر بچوں میں تقسیم کر دیں۔وہ خوش ہو کر واپس چلے گئے۔دوسرے دن جب میں شہر گیا تو ان شرارت کرنے والے لوگوں نے پھر بچے اکٹھے کرلئے اور ان سے کہنے لگے کہ جاؤ اس مرزائی کو جا کر ستاؤ۔مگر ان لڑکوں نے مجھے ستانے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ ہم نہیں جاتے کیونکہ "او بڑا چنگا اے۔اوہنے سانوں ریوڑیاں دیتیاں سن " (یعنی وہ بہت اچھا ہے اس نے ہمیں ریوڑیاں دی تھیں۔وہ بہت شرمندہ ہوئے۔پھر مولویوں نے اپنی شرارتیں شروع کر دیں اور سارے شہر میں اعلان کر دیا کہ ایک مرزائی مولوی آیا ہوا ہے اس سے بیچ کر رہنا۔کوئی تنور والا اسے روٹی نہ دے۔اور اگر کوئی تنور والا اسے روٹی دے تو کوئی مسلمان اس تنور والے سے روٹی نہ کھائے اور ساتھ ہی پہرے بٹھا دیئے۔شہر سے کچھ فاصلہ پر مستریوں کی سرائے تھے اور ان میں سے ایک صاحب کو مجھ سے دلی ہمدردی ہو گئی تھی۔وہ ہمیشہ میری بڑی عزت کرتا تھا جب اسے بائیکاٹ کا علم ہوا تو وہ مجھ سے افسوس کرنے لگا کہ دنیا بہت اندھی ہو گئی ہے۔اب کوئی نیکی اور بدی میں تمیز کرنے والا رہا ہی نہیں۔اس نے واپس جا کر اس بات کا اپنی بیوی سے ذکر کیا تو وہ کہنے لگی کہ میں روٹی پکا کر مولوی صاحب کے ہاں پہنچایا کروں گی۔آپ مولوی صاحب سے کہہ دیں کہ وہ بازار سے روٹی کھانے نہ جائیں جب کہ میں نے پہلے ہی روٹی کے سب