میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 139 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 139

127 ہوئے ہیں۔آپ ان میں سے ایک مکان خدا کا گھر بنانے کے لئے دے دیں تو اللہ تعالی اس نیک کام کے عوض بہت کچھ آپ کو جنت میں دیگا۔حاجی میراں بخش صاحب بولے کہ بابو صاحب مکان دے دیں اور جتنا روپیہ بیت پر خرچ آئے گا میں ونگا۔بابو صاحب نے منظور کرتے ہوئے دوسرے دن ہی مکان بیت کے لئے ہبہ کر دیا۔مقامی غیر احمدیوں کی طرف سے کئی رو کیں ڈالی گئیں لیکن کمیٹی نے نقشہ کی نظوری دے دی۔چنانچہ مکان گرا کر بیت کی بنیادیں کھدوائی گئیں۔جماعت نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں تار دیا کہ جماعت کی خواہش ہے کہ سنگ بنیاد حضور رکھیں۔حضور نے جواباً فرمایا کہ ؟ آپ بنیاد اپنے حلقہ کے مبلغ سے رکھوائیں۔میں اس دن ماچھیواڑہ میں تھا۔مجھے بذریعہ تار منگوایا گیا۔میں نے بعد دعا بنیادی اینٹ رکھی۔خدا تعالی کے فضل و کرم سے عالیشان بیت تعمیر ہوئی اور میرے خسرسید سعد اللہ شاہ صاحب میری عدم موجودگی میں امام الصلوۃ مقرر ہوئے آپ نے بچوں کو قرآن کریم پڑھانا بھی شروع کر دیا۔میں نے جگادھری عبد اللہ پور بوڑھیہ ، گھر والی، نرائن گڑھ ، ساڈھورہ جولی ، مبارک پور ، منی مزاع، روپر اثر پور کووال، پیر اور غوث گڑھ، پھلور، سرہند، خانپور راجپورہ، پٹیالہ نامہ دھوڑی، سنگرو، بٹھنڈہ لوہیاں، سلطانپور، کھرڈ وغیرہ میں تبلیغی دورے کئے اور احمدیت کی خدا تعالٰی کے فضل سے اس علاقہ میں خوب شہرت ہو گئی۔ایک دفعہ نابھہ میں ہمارا جلسہ ہو رہا تھا جس میں نا بھر میں کامیاب جلسہ بکثرت غیر احمدی حضرات بھی شامل تھے۔جلسہ کی صدارت میں خود کر رہا تھا اور گیانی واحد حسین صاحب کی تقریر ہو رہی تھی کہ ایک غیر احمدی مولوی صاحب نے اٹھ کر اعتراض کیا کہ نبی کا نام مفرد ہوتا ہے جب کہ مرزا صاحب کا نام مرکب ہے لہذا یہ ہی نہیں ہو سکتے۔میں نے گیانی صاحب کو بٹھا