میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 10 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 10

6 مجھے ۱۹۰۲ء سے ۱۹۰۸ء تک حضرت مسیح موعود کا کلام سننے اور مجالس میں بیٹھنے کا کافی موقع ملتا رہا۔مجھے شروع ہی سے تبلیغ کا از حد شوق تھا۔پرائیویٹ طور پر بزرگوں سے مختلف دینی کتب پڑھتا رہا۔1904ء میں مجھے دوکانداری کے ایام میں ہر مذہب و ملت کے لوگوں سے واسطہ پڑتا رہا اور خدا کے فضل سے اپنی قابلیت کے مطابق تبلیغ کرتا رہا۔حتی کہ ایک دن اخبار البدر " اور "الحکم" میں یہ الہام شائع ہوا کہ کشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کشتیاں"۔اس الہام پر بازار کے لوگوں نے ہمارا خوب مذاق اڑایا۔وہ کہتے تھے کہ تمہارے مرزا صاحب کے الہام کیسے ہیں۔کیا کشتیاں کوئی پہلوان ہیں جن کی کشتیاں ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ہم یہی جواب دیتے رہے کہ یہ بناوٹ نہیں ہے۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو معلوم ہوا وہ آپ نے بیان کر دیا اور جب اس کا وقت آئے گا تو حقیقت واضح ہو جائے گی۔جب ۱۹۹۴ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران کشتیوں کی کشتیوں کا نظارہ بھی ظاہر ہوا اور ہر مذہب کے اخبارات میں یہی ہیڈنگ "کشتیوں کی کشتیاں چھپے تو اس پر بازار والوں کے منہ بند ہو گئے اور وہ حیران تھے کہ کس شان سے یہ پیشگوئی پوری ہو گئی ہے۔tt عاجز چونکہ بچپن ہی سے اللہ مولوی" کا نام کیوں اور کس طرح رکھوایا تعالٰی کے فضل سے نمازوں کا پابند تھا اور کبھی داڑھی بھی نہیں منڈوائی تھی اس لئے لوگ مجھے مولوی کہتے تھے۔اس لفظ کو میں پسند نہیں کرتا تھا اور یہ لفظ سن کر مجھے دکھ ہوتا تھا۔۱۹۱۸ء میں جنگ عظیم اول کے دوران خاکسار فوج میں بھرتی ہو کر بصرہ چلا گیا۔وہاں بھی نمازوں اور تلاوت قرآن پاک میں باقاعدگی کی وجہ سے لوگ مجھے مولوی کہنے لگے جس کا مجھے علق تھا۔بصرہ ہی میں ایک رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں بیت اقصیٰ میں جمعہ پڑھنے