میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 129 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 129

117 کہ نہ تو آپ پر بارش ہی پڑتی ہے اور نہ ہی اولے۔آخر آپ اس میدان میں پہنچتے ہیں اور آپ ہاتھ اور منہ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کرتے ہیں کہ یکا یک بارش اور اولے بند ہو جاتے ہیں۔پھر آپ نے چاروں طرف گھوم کر پھونک ماری ہے جس سے تمام چار پائے فصلیں ، باغ ، مکانات غرضیکہ ہر چیز دوباره آباد و شاداب نظر آنے لگتی ہے۔اور اسی خوشی میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔آج میں نے مان لیا ہے کہ سلسلہ احمدید خدا تعالٰی کی طرف سے ہے اور آپ لوگوں کی خدا تعالی سنتا ہے۔آپ میری بیعت لکھ دیں۔میں نے کہا کہ یہ بھی اللہ تعالٰی کا آپ پر انعام ہے کہ آپ پر حق ظاہر کر دیا ہے۔اب اسے مفید بنانا آپ کے ہاتھ میں ہے۔آج رات سارے گاؤں والوں کو اکٹھا کر کے پہلے خواب سناؤ اور پھر بیعت کے متعلق مجھ سے بات کرنا۔چنانچہ ہرات کو انہوں نے تمام لوگوں کو اپنی خواب سنائی جس کے نتیجہ میں وہاں سے کثرت سے لوگوں نے احمدیت قبول کر لی۔میرا تبادلہ اور نئی منزلیں عاجز اس علاقہ میں ۵ اپریل ۱۹۲۳ء تا سی جون ۱۹۲۸ء ۱۴ تک رہا اور مولوی جلال الدین صاحب مرحوم و مغفور فیروز موردی کو چارج دیگر واپس قادیان آگیا۔ضلع ایٹہ مین پور اور فرخ آباد کے علاوہ آگرہ کانپور ، لکھنو، متھرا وغیرہ کے بھی میں نے دورے کئے۔سینکڑوں دیہات اور قصبات کا دورہ کیا جن میں سے مشہور مشہور مندرجہ ذیل ہیں۔1۔کا سکنج -۲- سوان ۳ سماور ۴ جلیر ۵- دریاؤ گنج - قائم گنج ۷۔علی شیخ ۸ نواب گنج -۹- کریم گنج نواب گنج - کریم گنج ۱۰ خدا گنج ا رسول گنج - ۱۲ بین سنج ۱۳ رانی گنج ہوا۔رحیم گنج وغیرہ وغیرہ اس کے علاوہ فتح گڑھ اور چھپر امٹو بھی ان میں شامل ہیں۔خداتعالی کے فضل و کرم سے سب جگہ کا دورہ کامیاب رہا۔بعدہ دو ماہ کی رخصت پر قادیان رہا۔مذکورہ تمام عرصہ میں دفتر کی طرف