میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 111
99 کی اور گھر میں کہہ دیا کہ مرغ کا سالن بنا لیتا اور آٹا وغیرہ گوندھ چھوڑنا شاید انسپکٹر صاحب بعد معائنہ لاش ہیں آجا ئیں۔ہم ابھی وہاں پہنچے ہی تھے کہ انسپکٹر صاحب بھی تشریف لے آئے اور مجھ سے ملے۔تھوڑے بہت بیان بھی انہوں نے کچھ لوگوں سے لئے اور لاش کا معائنہ کرنے کے بعد اسے ایٹہ پہنچا دیا اور تھانیدار کو حکم دے دیا کہ بیانات قلم بند کر کے مولوی صاحب کے پاس لے آئیں۔میں نے کہا کہ بیان تو ہو ہی گئے ہیں۔مارنے والے بھاگ چکے ہیں اب ہم اکٹھے ہی چلتے ہیں۔مغرب سے قبل ہم تینوں گھر پہنچ گئے۔کھانا وغیرہ پہلے ہی تیار تھا۔وہ سکھ تھانیدار بھی آزاد خیال تھا اور کھانا وغیرہ ہمارے ساتھ کھا لیتا تھا۔کھانے کے بعد میں نے مجمولہ کی پنچائیت کا فیصلہ، بھوپ سنگھ کی ڈیوٹی اس کا میرے پاس آکر دورے پر جانے کا پتہ لینا اور رات کو تماشے کا واقعہ اور اس کا انجام سب بتا دیا۔تھانیدار اور انسپکٹر سن کر بہت حیران ہوئے اور بہت اچھا اثر لیا۔بعدۂ قدرت نے تھانیدار کے دل میں خاکسار کی عزت قائم کر دی۔اس طرح جب بھی کسی مظلوم کی جائز مدد کی ضرورت پڑتی تو تھانے میں میری سفارش سے مظلوم کا مسئلہ حل ہو جاتا تھا چاہے وہ ہندو ہوتا یا مسلمان۔علی گنج میں تحصیلدار محمد عادل صاحب اور چھوٹے تحصیل دار مرغوب احمد صاحب جب بھی حلقہ میں آتے مجھے ضرور مل کر جاتے اور ایک دفعہ تو مرغوب احمد صاحب شکار کی غرض سے آئے تو ایک ہفتہ میرے پاس ہی ٹھرے۔ایک دفعہ نواب بقاء اللہ خاں صاحب علی ایک اور آزمائش۔قاتلانہ حملہ گنج والوں نے مجھے رقعہ بھیجا کہ میرے ماموں صاحب مولوی ہیں اور وہ آپ سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔اس لئے آپ بدیدن رقعہ مذا تشریف لے آئیں۔ان ایام میں بابو محمد اسماعیل صاحب فیروز پوری موضع گڑھی میں احمدی مبلغ تھے۔میں نے انہیں بھی وہاں پہنچنے کے لئے پیغام بھیج