مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن

by Other Authors

Page 17 of 25

مولوی منظور کا فتنۂ تحریف قرآن — Page 17

”ہم نے عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ کو ایک اونچی جگہ فلسطین۔مصر میں جگہ دی جو قرار والی اور چشمہ والی تھی“۔( صفحه ۳ سطر ۱۳، ۱۴) خط کشیدہ الفاظ ہر گز قرآن مجید میں موجود نہیں اور ان کو ترجمہ میں نہایت دیدہ دلیری سے شامل کرنا بیسویں صدی کی بدترین اور شرمناک تحریف قرآن ہے، فراڈ ہے ، دجالیت ہے جس پر ملا چنیوٹی کو صرف اہل پاکستان سے ہی نہیں، دنیا بھر کے مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہئے۔در اصل قرآن کی لفظی اور معنوی دونوں قسم کی تحریف احراری مذہب کا جزو اعظم ہے۔بطور ثبوت مکتبہ تبصرہ لاہور کی کتاب ”خطبات امیر شریعت“ ہی ملاحظہ فرمائیں جس میں کم از کم آٹھ قرآنی آیات محرف و مبدل ہیں۔شورش کا شمیری نے ہفت روزہ چٹان مورخہ ۷ جنوری ۱۹۶۳ء کے صفحہ ۳ پر یہ خبر شائع کی کہ بریلوی عالم مولوی محمد عمر اچھروی نے ۲۸؍ دسمبر ۱۹۶۲ء کے ایک جلسہ عام میں کہا: احمد علی لاہوری، عطاء اللہ شاہ بخاری، اور حماد اللہ ان تینوں پر اس لئے فالج گرا کہ یہ تینوں قرآن مجید میں معنوی تحریف کرتے تھے۔خدا کی طرف سے ان پر عذاب نازل ہوا۔تینوں کے پہلو مارے گئے اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے حتی کہ مرتے وقت کلمہ بھی نصیب نہ ہوا۔“ چانکیائی رگ اور غلام اللہ خانی سرشت جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے بانی ربوہ نے کبھی آیت اوینھما“ میں لفظ ربوہ سے مراد دریائے چناب کے کنارے آباد شہر ربوہ نہیں لیا۔اسی طرح جماعت احمد یہ بھی قرآن کریم میں مذکور ”ربوہ“ کا مصداق شہر ربوہ کو ہر گز قرار نہیں دیتی۔پس یہ 17