حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی ؓ — Page 20
23 کر کہ اب کام ہو گیا ہے آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔صبح کے وقت کسی نمازی نے آپ کو دیکھا اور گھر پہنچادیا۔آپ چند یوم تک صاحب فراش رہے۔صحت یاب ہونے کے بعد حکام کےسامنے معاملہ پیش کیا۔بوجہ علم و فضل سب آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔حکام نے مسجد کے بنانے والے کے لواحقین کو بلا کر فیصلہ کیا کہ تمہارے بزرگ خود تو حنفی تھے اور مولوی برہان الدین کو جو اس وقت اہلحدیث تھے امام مسجد مقرر کر گئے۔اب چونکہ وہ فوت ہو چکے ہیں تو تمہارا کیا حق ہے کہ ان کو امامت سے علیحدہ کرو۔تاہم مسجد کے ساتھ جود کا نہیں ہیں وہ تم لے سکتے ہو۔چنانچہ وہ اس بات پر رضامند ہو گئے دکانوں پر انہوں نے قبضہ کر لیا اور مسجد حضرت مولوی صاحب کے پاس رہی۔مگر اسی پر بس نہیں کچھ عرصہ کے بعد مسجد کو آگ لگا کر جلا دیا گیا۔مسجد جل جانے کے بعد ایک شخص میاں نورحسین کو جو اہلحدیث ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ عقیدت رکھتا تھا اور آپ کے ساتھ ہی نمازیں پڑھا کرتا تھا، حضرت مولوی صاحب نے اس کو شہر والی مسجد جس میں خواجہ لوگ نماز پڑھتے تھے جمعہ کے روز یہ پیغام دے کر بھیجا کہ وہاں جاؤ اور جب وہ جمعہ کی نماز ختم کر دیں تو میرا پیغام دو کہ مولوی صاحب نے کہا ہے کہ آپ کے بزرگ نے یہ مسجد بنوائی تھی اب یہ جل کر شہید ہوگئی ہے آپ اسے بنوا دیں اور ثواب دارین حاصل کریں۔مگر ان خواجگان نے دو جمعوں تک کوئی جواب نہ دیا۔میاں نور حسین بڑا بارعب ، جوشیلا اور باغیرت انسان تھا۔سہ بارہ جب تیسرے جمعہ آپ نے میاں نورحسین صاحب کو پیغام پہنچانے کے لئے کہا تو انہوں نے عرض کیا مولوی صاحب مجھے تو شرم آتی ہے میں ہر گز نہیں جاؤں گا۔آپ نے کہا نور حسین شرم تو مجھے آنی چاہیئے آپ کیوں شرمندہ ہوتے ہیں۔آپ تو پیغام رساں ہیں۔آپ اس حکمت کو نہیں سمجھتے یہ آخری دفعہ ہے آپ جائیں۔چنانچہ جب وہ تیسرے جمعہ کو پیغام لے کر گئے کہ مولوی صاحب کہتے ہیں کیونکہ