مودودی شہ پارے — Page 7
شخصیتوں کا تذکرہ پڑھ کہ حسن حسنی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔حالانکہ جو الفاظ ان کو اس طرف کھینچکر لانے کا موجب ہوتے ہیں اُنکا مطلب اور مفہوم ان کے اپنے عقیدہ و مسلک اور ذہنی تصویر تو نخیل کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔بطور مثال اسلام کا لفظ پر سلمان استعمال کرتا ہے۔مگر جناب مودودی صاحب اور۔انکے رفقا ر جب یہ لفظ استعمال کرینگے تو اُن کے نزدیک اسکی بالکل جدا تعریف ہوگی۔اور اس وقت ان کے سامنے ایک ا ایسے نظام کا نقشہ آجائے گا جو اشترا کی اور فاشی ازم کے مائل ہے۔اور جس میں خارجیت اور انار کز مت تک کے لئے گنجائش نکل آتی ہے۔: اسی طرح جب کوئی مسلمان معالم اسلام کے کسی فرقہ کا ذکر کرے گا تو اس کے نزدیک وہ ملت اسلامیہ ہی کے ایک جزو کا ذکر کر رہا ہوگا۔مگر مولانا مودودی کا چونکہ