مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 632

مسیحی انفاس — Page 81

= گے اور آخر یہ کہیں گے۔فَلَمَّا تَوَفَّنِي كُنتَ أنتَ الرقيب عَلَيْهِمْ یعنی جب تک میں ان میں زندہ رہا تھا۔میں نے ہر گز نہیں کہا۔ہاں جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو آپ ان کا نگران تھا۔اس سے پہلے مادمت فيهم - کا لفظ صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ جب تک حضرت مسیح زندہ رہے ان کی قوم میں یہ بگاڑ پیدا نہیں ہوا۔ساری ضلالت بعد وفات ہوئی ہے اگر حضرت مسیح ابھی تک زندہ ہیں تو پھر یہ ملنا پڑے گا کہ عیسائی نہیں بگڑے بلکہ حق پر ہیں۔پس غور کر کے بتاؤ اسلام کی حقانیت پر یہ کس قدر خطرناک حملہ ہو گا۔کیونکہ جب ایک سچاند ہب موجود ہے اور اس میں کوئی خرابی ہی پیدا نہیں ہوئی تو پھر جو کچھ وہ کہتے ہیں مان لینا چاہئے۔مگر نہیں خدا تعالیٰ کا کلام حق ہے کہ یہی سچ ہے کہ وہ مرگئے اور عیسائی مذہب بھی ان کے ساتھ ہی مر گیا اور اس میں کوئی روح حق اور حقیقت کی نہیں رہی۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ اس دنیا میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ عیسائیوں کے بگڑنے کا اقرار اپنی موت کے بعد کرتے ہیں۔اگر انہوں نے آنا تھا تو وہ یہ جواب نہ دیتے۔ورنہ یہ جواب اللہ تعالیٰ کے حضور جھوٹا سمجھا جاوے گا۔اور رب العرش العظیم کے حضور حلف دروغی ہوگی کیونکہ اس صورت میں تو انہیں کہنا چاہئے تھا کہ میں گیا اور جاکر ان صلیبوں کو توڑا اور ان میں پھر توحید قائم کی وغیرہ وغیرہ۔لمفوظات۔جلد ۸ صفحه ۸۷،۸۶ کوئی ملک نظر نہیں آتا کہ جہاں بذریعہ انجیل کے اشاعت توحید کی ہوئی ہو۔بلکہ انجیل کے ماننے والے موحد کو ناجی ہی نہیں سمجھتے اور پادری لوگ اہل توحید کو ایک اندھیری آگ میں بھیج رہ ہیں کہ جہاں رونا اور دانت پیسنا ہو گا اور بقول ان کے اس کالی انجیل کے ذریعہ کسی آگ سے وہی بچے گا۔جو خدا پر موت اور مصیبت اور بھوک اور پیاس اور درد اور دکھ میں میں تو دی د سیمی ملک توحید نہیں اور تختم اور حلول ہمیشہ کے لئے روا ر کھتا ہو۔ورنہ کوئی صورت بیچنے کی نہیں۔گویا وہ پھیلی۔فرضی بهشت یورپ کی دو بزرگ قومیوں انگریزوں اور روسیوں کو نصفالنصف تقسیم کر کے دیا جائے گا۔اور باقی سب موحد اس قصور سے جو خدا کو ہر ایک طرح کے نقصان سے جو اس نے کے کمال نام کے منافی ہے پاک سمجھتے تھے دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔غرض ہماری اس تحریر سے یہ ہے کہ آج صفحہ دنیا میں وہ شے کہ جس کا نام توحید ہے بجزا امت