مسیحی انفاس — Page 67
42 | کیونکر ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی میں چار فوق العادت خصوصیتیں ہیں قبول کر لیں ہوں۔ضمیمہ براہین احمدیہ۔حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۹۸٬۳۹۷ 06 مریم کا صدیقہ نام رکھنا اس غرض سے نہیں تھا کہ وہ دوسری تمام پاک دامن اور صالحہ عورتوں سے افضل تھی بلکہ اس نام کے رکھنے میں یہودیوں کے اعتراض کا ذب اور دفع مقصود تھا۔اسی طرح احادیث میں جو لکھا گیا کہ عیسی اور اس کی ماں من میں کی پیدائش بھی کوئی میسا امر نہیں کہ جس شیطان سے پاک تھے۔اس قول کے یہ معنے نہیں کہ دوسرے نبی مست شیطان سے سے ان کی خدائی کا پاک نہیں تھے۔بلکہ غرض یہ تھی کہ نعوذ باللہ جو حضرت مسیح پر ولادت ناجائز کا الزام لگایا استنباط ہو سکے۔گیا تھا اور حضرت مریم کو ناپاک عورت قرار دیا گیا تھا۔اس تکلمہ میں اس کارد مقصود ہے۔ایسا ہی حضرت مسیح کی پیدائش کوئی ایسا امر نہیں ہے۔جس سے ان کی خدائی مستنبط ہو سکے۔اسی دھوکہ کے دور کرنے کے لئے قرآن شریف اور انجیل میں حضرت عیسی اور یحیٰ کی ولادت کا قصہ ایک ہی جگہ بیان کیا گیا ہے۔تا پڑہنے والا سمجھ لے کہ دونوں ولاد تیں اگر چہ بطور خارق عادت ہیں۔لیکن ان سے کوئی خدا نہیں بن پیدائش کے لحاظ سے سکتا۔ورنہ چاہئے کہ بیٹی بھی جس کا عیسائی یوحنا نام رکھتے ہیں خدا ہو۔بلکہ یہ دونوں حضرت بیٹی کا نشان امر اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبوت اسرائیلی خاندان میں سے جاتی رہے گی۔یعنی بہت صاف رہا۔جبکہ یسوع مسیح کا باپ بنی اسرائیل میں سے نہ ہوا۔اور یخنی کی ماں اور باپ اس لائق نہ ہ یہ خصوصیت کہ وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے کوئی دوسرا انسان ان کا شریک نہیں۔دوسری یہ خصوصیت کہ صدہا سال تک بغیر آب و دانہ کے آسمان پر زندہ رہنے والے ٹھہرے جس میں ان کا کوئی دوسرا انسان شریک نہیں۔تیسری یہ خصوصیت که آسمان پر اتنی مدت پیرانہ سالی اور ضعف سے محفوظ رہنے والے وہی ٹھہرے جس میں ان کا کوئی آدمی شریک نہیں۔چوتھی خصوصیت که مدت دراز کے بعد آسمان سے مع ملائک نازل ہونے والے وہی ٹھہرے جس میں ان کا ایک بشر بھی شریک نہیں۔میں کا بھی ضمیمہ براہین احمدیہ۔حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۹۵