مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 632

مسیحی انفاس — Page 60

| + افسوس کہ ان بیچاروں کو خبر نہیں کہ اگر انہیں باتوں سے انسان خدا بن جاتا ہے تو اس خدائی کا زیادہ تر اشتقاق ہمارے سیتید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے کیونکہ اس قسم کے اقتداری خوارق جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے ہیں حضرت مسیح علیہ السلام ہر گز دکھلا نہیں سکے۔اور ہمارے ہادی و مقتدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اقتداری خوارق نہ صرف آپ ہی دکھلائے بلکہ ان خوارق کا ایک لمبا سلسلہ روز قیامت تک اپنی امت میں چھوڑ دیا جو ہمیشہ اور ہر زمانہ میں حسب ضرورت زمانہ ظہور میں آتا رہا ہے اور اس دنیا کے آخری دنوں تک اسی طرح ظاہر ہوتا رہیگا اور الہی طاقت کا پر توہ جس قدر اس امت کی مقدس روحوں پر پڑا ہے اس کی نظیر دوسری امتوں میں ملنی مشکل ہے پھر کس قدر بیوقوفی ہے کہ ان خارق عادت امور کی وجہ سے کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیا جائے اگر ایسے ہی خوارق سے انسان خدا بن سکتا ہے تو پھر خداؤں کا کچھ انتہا بھی ہے؟ آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۷ پادریوں نے خیالی اور فرضی طور پر مسیح کی خدائی کے ثبوت کے لئے بڑے ہاتھ پاؤں مارے ہیں۔مگر آج تک ایک بھی رسالہ یا تحریر ان کی میری نظر سے نہیں گزری اور کوئی حضرت مسیح کے پادری میں نے نہیں دیکھا جس نے مسیح کے مجربات کے چہرہ سے تالاب کے قصہ کے معجزات پر داغ۔داغ کو دور کیا ہو اور جب تک انجیل میں یہ قصہ درج ہے یہ داغ اٹھ نہیں سکتا۔میں بار بار آپ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو دیکھو۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۱۳۳ اس کے معجزات دوسرے اکثر نبیوں کی نسبت بہت ہی کم ہیں۔مثلاً معجزات کے ضمن میں اگر کوئی عیسائی ایلیا نبی کے معجزات سے جو بائبل میں مفصل مذکور ہیں۔جن میں سے قران کریم کا حضرت مردوں کا زندہ کرنا بھی ہے۔مسیح ابن مریم کے معجزات کا مقابلہ کرے۔تو اس کو ضرور ک پر احسان ہے۔اقرار کرنا پڑے گا کہ ایلیا نبی کے معجزات شان اور شوکت اور کثرت میں مسیح ابن مریم کے معجزات سے بہت بڑھ کر ہیں۔ہاں انجیلوں میں بار بار اس معجزہ کا ذکر ہے۔کہ یسوع مسیح مصرمو سشون یعنی مرگی زدہ لوگوں میں سے جن نکلا کرتا تھا اور یہ بڑا معجزہ اس کا شمار کیا گیا ہے۔جو محققین کے نزدیک ایک ہنسی کی جگہ ہے۔آجکل کی تحقیقات سے ثابت ہے