مسیحی انفاس — Page 48
۴۸ کے لئے کوئی دلیل جو قرآن کریم کو لایا اس کو خلاف حق سمجھا جاتا ہے۔اس کی پیروی کرنے والے تو قرآن کریم کے منشاء کے موافق خدا تعالیٰ کی توفیق اور فضل سے نشان دکھلاویں مگر مسیحیوں کے نشان آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہوں۔اگر مسیحیوں میں نشان نمائی کی توفیق اب موجود نہیں ہے تو پھر خود سوچ لیں کہ ان کامذہب کیا شے ہے۔میں پھر سہ بارہ عرض کرتا ہوں کہ جیسا کہ اللہ جل شانہ کے بچے مذہب کی تین نشانیاں ٹھہرائی ہیں وہ اب بھی نمایاں طور پر اسلام میں موجود ہیں۔پھر کیا وجہ کہ آپ کا مذہب بے نشان ہو گیا اور کوئی سچائی کے نشان اس میں باقی نہیں رہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح نے جو نشانی دکھلانے سے ایک جگہ انکار کیا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پہلے دکھلا چکے تھے میں کہتا ہوں کہ یہ آپ کا بیان صحیح نہیں ہے اگر وہ دکھلا چکتے تو اس کا حوالہ دیتے۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۶۴ تا ۱۷۰ وما كان دليلهم على ألوهية المسيح الا انهم زعموا انه خلق الخلق بقدرته وأحيا عیسائیوں کے پاس الاموات بألوهيته ، وهو حى بجسمه العنصرى على السماء، قائم بنفسه ، مقوم الوہیت مسیح کے ثبوت لغيره، وهو عين الرب والرب عينه، وحمل احدهما على الآخر حمل المواطأة وانما التفاضل في الامور الاعتبارية۔۔ازلى ابدى وما كان من الفانين۔ويجوزون لله تنزلات في مظاهر الاكوان، ثم يختصونها بجسم المسيح جهلا وحمقا وليس عندهم على هذا من دليل مبين۔نہیں۔ترجمه بـ (حمامة البشرى روحانى خزائن مجلد ۷ ص ۱۷۷ اور ان کے پاس الوہیت مسیح کی کوئی دلیل نہیں سوائے اس کے کہ وہ زعم رکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی قدرت سے مخلوق پیدا کی۔اور اپنی الوہیت سے مردوں کو زندہ کیا اور وہ اپنے عصری جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔وہ اپنی ذات میں قائم اور دوسروں کو قائم رکھنے والے ہیں۔وہ بعینہ رہتے ہیں اور رب ان کا عین ہے۔حتی کہ دونوں میں کوئی دوئی نہیں ہے۔البتہ مختلف نسبتوں کے اعتبار سے نام میں فرق ہے۔وہ ازلی اور ابدی ہیں اور فنا ہونے والے نہیں اور وہ اس کائنات کے مختلف مظاہر میں اللہ تعالیٰ کے لئے تنزلات کو تجویز کرتے ہیں اور پھر اپنی جہالت اور حماقت کی وجہ سے ان تنزلات کو جسم مسیح کے لئے خاص کرتے ہیں۔اس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔(ترجمہ از مرتب )