مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 632

مسیحی انفاس — Page 47

یہی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق ہر ایک چیز کا ہے اور وہی اکیلا ہر ایک چیز پر غالب اور قاہر ہے۔اس قرآنی دلیل کے موافق ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب سے میں نے دریافت کیا تھا کہ اگر آپ صاحبوں کی نظر میں در حقیقت حضرت مسیح خدا ہیں تو ان کی خالقیت وغیرہ صفات الوہیت کا ثبوت دیجئے۔کیونکہ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ خدا اپنی صفات کو آسمان پر چھوڑ کر نرا مجرد اور برہنہ ہو کر دنیا میں آجائے اس کی صفات اس کی ذات سے لازم غیر منفک ہیں اور کبھی تعطل جائز نہیں۔یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ خدا ہو کر پھر خدائی کے صفات کاملہ ظاہر کرنے سے عاجز ہو اس کا جواب ڈیپٹی صاحب موصوف مجھے یہ دیتے ہیں کہ جو کچھ زمین آسمان میں آفتاب و ماہتاب وغیرہ چیزیں مخلوق پائی جاتی ہیں یہ مسیح کی بنائی ہوئی ہیں۔اب ناظرین اس جواب کی خوبی اور عمدگی کا آپ ہی اندازہ کر لیں کہ یہ ایک دلیل پیش کی گئی ہے یا دوسرا ایک دعوی پیش کیا گیا ہے۔کیا ایسا ہی ہندو صاحبان نہیں کہتے کہ جو کچھ آسمان و زمین میں مخلوق پائی جاتی ہے وہ راجہ رام چندر صاحب نے ہی بنائی ہوئی ہے۔پھر اس کا فیصلہ کون کرے۔پھر بعد اس کے ڈپٹی صاحب موصوف ایمانی نشانیوں کو کسی خاص وقت تک محدود قرار دیتے ہیں حالانکہ حضرت مسیح صاف لفظوں سے فرمارہے ہیں کہ اگر تم میں رائی کے برابر بھی ایمان ہو تو تم سے ایسی ایسی کرامات ظاہر ہوں۔پھر ایک مقام یو حنام اباب ۱۲ میں آپ فرماتے ہیں۔میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے جو میں کام کرتا ہوں وہ بھی کرے گا اور ان سے بھی بڑے بڑے کام کرے گا۔اب دیکھئے کہ وہ تاویلات آپ کی کہاں گئیں۔اس آیت میں تو حضرت مسیح نے صاف صاف فیصلہ ہی کر دیا اور فرما دیا کہ مجھ پر ایمان لانے والا میرا ہمرنگ ہو جائیگا اور میرے جیسے کام بلکہ مجھ سے بڑھ کر کرے گا اور یہ فرمودہ حضرت مسیح کا نہایت صحیح اور سچا ہے کیونکہ انبیا اسی لئے آیا کرتے ہیں کہ ان کی پیروی کرنے سے انسان انہیں کے رنگ سے رنگین ہو جائے اور ان کے درخت کی ایک ڈالی بن کر وہی پھل اور وہی پھول لاوے جو وہ لاتے ہیں۔ماسوا اس کے یہ بات ظاہر ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے اطمینان قلب کا محتاج ہوتا ہے اور ہر ایک زمانہ کو تاریکی کے پھیلنے کے وقت نشانوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔پھر یہ کیونکر ہو سکے کہ حضرت مسیح کے مذہب قائم رکھنے کے لئے اس خلاف تحقیقات عقیدہ حضرت مسیح کے ابن اللہ ٹھہرانے کے لئے کسی نشان کی کچھ بھی ضرورت نہ ہو اور دوسری قوم جن کو باطل پر خیال کیا جاتا ہے اور وہ نبی کریم صلحم