مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 549 of 632

مسیحی انفاس — Page 549

۵۴۹ یادر ہے کہ پولوس حضرت عیسی علیہ السّلام کی زندگی میں آپ کا جانی دشمن تھا اور پھر آپ کی وفات کے بعد جیسا کہ یہودیوں کی تاریخ میں لکھا ہے اس کے عیسائی ہونے کا موجب اس کے اپنے بعض نفسانی اغراض تھے جو یہودیوں سے وہ پورے نہ ہو سکے۔اس لئے وہ ان کو خرابی پہنچانے کے لئے عیسائی ہو گیا۔اور ظاہر کیا کہ مجھے کشف کے طور پولوس کے کارنامے حضرت مسیح ملے ہیں اور میں ان پر ایمان لایا ہوں اور اس نے پہلے پہل تثلیث کا خراب بوده دمشق میں لگایا۔اور یہ پولوسی تثلیث دمشق سے ہی شروع۔صاف ظاہر ہے کہ اگر پولوس حضرت مسیح کے بعد ہوئی۔ایک رسول کے رنگ میں ظاہر ہونے والا تھا جیسا کہ خیال کیا گیا ہے تو ضرور حضرت مسیح اس کی نسبت کچھ خبر دیتے خاص کر کے اس وجہ سے تو خبر دینا نہایت ضروری تھا کہ جب کہ پولوس حضرت عیسی کی حیات کے تمام زمانہ میں حضرت عیسی س سے سخت برگشتہ رہا۔اور ان کے دکھ دینے کے لئے طرح طرح کے منصوبے کر تا رہا۔تو ایسا شخص ان کی وفات کے بعد کیونکر امین سمجھا جا سکتا ہے۔بجز اس کے کہ خود حضرت مسیح کی طرف سے اس کی نسبت کھلی کھلی پیش گوئی پائی جائے اور اس میں صاف طور پر درج ہو کہ اگر چہ پولوس میری حیات میں میرا سخت مخالف رہا ہے اور مجھے دکھ دیتارہا ہے لیکن میرے بعد وہ خدا تعالیٰ کار سول اور نہایت مقدس آدمی ہو جائے گا۔بالخصوص جبکہ پولوس ایسا آدمی تھا کہ اس نے موسیٰ کی توریت کے بر خلاف اپنی طرف سے نئی تعلیم دی۔سور حلال کیا۔ختنہ کی رسم تو توریت میں ایک مؤکد رسم تھی اور تمام نبیوں کا ختنہ ہوا تھا اور خود حضرت مسیح کا بھی ختنہ ہوا تھا۔وہ قدیم حکم الہی منسوخ کر دیا۔اور توریت کی توحید کی جگہ تثلیث قائم کر دی اور توریت کے احکام پر عمل کرنا غیر ضروری ٹھرایا اور بیت المقدس سے بھی انحراف کیا۔تو ایسے آدمی کی نسبت جس نے موسوی شریعت کو زیر و زبر کر دیا ضرور کوئی پیش گوئی چاہئے تھی۔پس جب کہ انجیل میں پولوس کے رسول ہونے کے بارے میں خبر نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے اس کی عداوت ثابت اور توریت کے ابدی احکام کا وہ مخالف تو اس کو کیوں اپنا مذہبی پیشوا بنایا گیا؟ کیا اس پر کوئی دلیل ہے ؟ چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۷۶ تا ۳۷۸ پولوس جس کی باتوں سے خدائی نکالی جاتی ہے وہ اپنے چال چلن کے لحاظ سے بجائے